مجھے والدین کے حقوق اور ہماری فرمانبرداری کی حدود کا پوچھنا ہے جب کہ میرے والد کے اندر مندرجہ ذیل عادتیں میری یاد کے مطابق ۱۵ سال سے ہیں، جس کا گواہ میں خود ہوں ، اور کچھ رشتے دار بھی، بلکہ میری امی بھی ہے، جو کہ سمجھانے سے یا صبر کرنے پر بھی ختم نہیں ہو رہی، بلکہ اس کے اثر میرے سمیت سب بہن بھائیوں، بيوی ، خاندان اور ان کی اولاد کی بیویوں ، بچوں پر پڑتا ہے اور ان کو اذیت کے ساتھ ساتھ مستقبل کا نقصان بھی ہوتا ہے، ان کی عمر تقریبا ۵۳ سال ہیں اور لاکھوں میں آمدنی ہے۔
میرے والد عرصے دراز سے موسیقی سے وابستہ ہیں۔
جسمانی تعلق کم عمر لڑکی اور لڑ کو ں سے لے کر جو ان تک اس پر ظلم کہ کچھ سے زبردستی کرتے ہیں اور کچھ میرے خالہ زاد بہنیں بھی ہیں، چند لوگ ان کے خاندانی مرتبے کی وجہ سے ڈر جاتے ہیں اور کسی کو بتاتے نہیں کیوں کہ کوئی یقین نہیں کرے گا، جھوٹ بولتے ہیں اور ہم لوگوں کو بلیک میل کرنے کے لیے اداکاری بھی کر لیتے ہیں۔
ہماری ماں یا ہماری بیوی خاندان میں اچھے طریقے سے کسی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہیں کر سکتا جب تک وہ خود نہ ہمارے ساتھ ہیں۔ میری بیوی اپنے حقیقی بھائی کی شادی پر گئی تو انہوں نے سب پر قیامت برپا کر دی اور اس سب کی وجہ بھی کوئی نہیں بتاتے جب کہ ان سب کے سامنے خود کو مسکین اور سچا بھی بنا لیتے ہیں، بعد میں اور ہم سب جھوٹے ہو جاتے ہیں، یہی سب وہ ہماری ماں کے ساتھ بھی کرتے ہیں اپنے سگے بھائی سے پورے زندگی دور ر ہے اور اس کی جنازے پر بھی نہیں گئے۔
ہماری شادیوں ميں غير ضروری جلدی کر لیتے ہیں اور شادی کے بعد ہمارے خلاف ہو جاتے ہیں جب کہ چھوٹے بھائی کو جیب خرچ بھی نہیں دیتے جو ناسمجھ ہے وہ کماتا بھی نہیں، نہ ہی اس کو مزدوری کرنے دیتے ہیں کہ میری بے عزتی ہے، اور وہ بچپن سے ہی ذہنی مرض کا شکار ہے، جب شادی سامنے کرو تو رونے لگتے ہیں اور ہم کو کہتے ہیں کے حکم عدولی کرتے ہے میری اولاد، اور اگر کرو تو ساتھ چھوڑر دیتے ہیں۔
سود پر قرض لینے سے گریز نہیں کرتے اور جب پیسے نہ ہوں تو خود بھی اور باقی سب کو بھی خوب کھلاتے پلاتے ہیں جب تک پیسے ہوں، مستقبل کا کہو تو کہتے ہیں میں نے سوچا ہوا ہے ،ہم ۶بہن بھی ہیں ، ہمارے بھی بچے ہوں گے ہیں۔
ایک اور ظلم یہ کیا کہ میری خالہ زاد لڑ کی سے ان کا جسمانی تعلق تھا ،اس کی شادی میرے بھائی سے کروانے پر رازی ہو گئے ہیں، کیوں کہ اس لڑکی نے اپنی محبت میں میرے بھائی کو چکر لیا ہے جو عمر میں بہت چھوٹا ہے۔
والد صاحب ہر بات میں من مانی کرواتے ہیں سب سے، پیشاب بھی زیادہ بار کرو تو موڈ بنا کر جو بن سکتی ہیں کرتے ہیں، اللہ کا واسطہ ہیں تفصیلی راہ نمائی فرما کر ہماری دین اور دنیا بچا لیں، احسان مندر ہوں گا،براہ کرم ہم کو والد سے برتاؤ کا طریقہ بتادیں، تاکہ ہم سب کا بھلا ہو جائے گا،
سائل نے اپنے والد کے رویہ، چال چلن اور رہن سہن سے متعلق جو کچھ تحریر کیا ہے اس میں کسی قسم کی لفاظی اور غلو نہ ہو بلکہ واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہو تو اس صورت میں سائل کے والد بلا شبہ ان نا جائز حرکات کی وجہ سے گناہ گار ہیں اور مسلسل گناہ میں مزید بڑھ رہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ خوف خدا کریں، اپنی ان تمام نا جائز و غلط حرکات و سکنات سے مکمل احتراز کریں اور جو کچھ ابھی تک وہ کر چکے ہیں ،اس پر ندامت کے ساتھ بصدق دل تو بہ واستغفار بھی کریں، بلاوجہ اپنی اولاد کو تنگ و پریشان کرنے اور ان کے حقوق میں کوتاہی سے بھی احتراز کریں، نیز جس لڑکی کے ساتھ وہ خود ناجائز تعلقات رکھ چکے ہیں تو حرمت مصاہرت ثابت ہونے کی وجہ سے اب وہ لڑکی اس کے کسی بھی بیٹے کے نکاح میں نہیں آسکتی، خواہ وہ بیٹا اس لڑکی سے عمر میں چھوٹا ہو یا بڑا، اس لئے اس پر یہ بھی لازم ہے کہ بچوں میں سے جو بالغ اور بڑی عمر کے ہو چکے ہیں کسی مناسب جگہ رشتہ ملنے پر ان کی شادی بھی کروادے،تاکہ اس بوجھ سے بھی اس کا چھٹکارا ہو سکے ۔
اس سب کے باوجود اولاد کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے والد کے ساتھ بد تمیزی والا سلوک اور رویہ رکھے ، بلکہ انہیں اپنے والد کے ساتھ حسن اخلاق اور احسان والا رویہ رکھنا ہی لازم ہےالا یہ کہ اگر وہ کسی خلاف شرع کام کا حکم دیں تو اس صورت میں ان کی اطاعت لازم نہیں، مگر ان کے ساتھ بدتمیزی و بداخلاقی سے پیش آنا اس صورت میں بھی جائز نہیں، پس اس کام سے معذرت کرنے کے ساتھ ساتھ خاموشی اختیار کریں۔
تاہم بشمول والد موصوف کے گھر کے تمام افراد پر لازم ہے کہ وہ آئندہ کے لیے حقوق اللہ وحقوق العباد کی ادائیگی و لحاظ کرنے اور ذکر و تلاوت اور نماز کی پابندی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو موافق سنت بنانے کی فکر کریں۔
كما في الدر المختار: (و) حرم المصاهرة (بنت زوجته الموطوءة وأم زوجته) وجداتها مطلقا بمجرد العقد الصحيح (وإن لم توطأ) الزوجة (الى قوله) و في الكشاف واللمس ونحوه كالدخول عند أبي حنيفة وأقره المصنف (وزوجة أصله وفرعه مطلقا) ولو بعيدا دخل بها أو لا. (الى قوله) (و) حرم (الكل) مما مر تحريمه نسبا، ومصاهرة (رضاعا) (الى قوله) (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (الى قوله) (وفروعهن) مطلقا والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى اھ (3/ 30، تا 33)۔
كما في التفسير المظهري: فى تفسير قوله وَأُمَّهاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ أَنِ اشْكُرْ لِي تفسير لوصينا او بدل من والديه بدل اشتمال وَلِوالِدَيْكَ قال سفيان بن عيينة فى هذه الاية من صلّى الصلوات الخمس فقد شكر الله ومن دعا لوالديه فى ادبار الصلوات الخمس فقد شكر لوالديه إِلَيَّ الْمَصِيرُ المرجع فيه وعد ووعيد يعنى اجازيك على شكرك وكفرك. وَإِنْ جاهَداكَ عطف على قوله ان اشكر عَلى أَنْ تُشْرِكَ بِي ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ باستحقاق الإشراك يعنى فكيف وأنت تعلم بطلان الإشراك بالادلة القاطعة فَلا تُطِعْهُما فى ذلك فان حق الله غالب على حق كل ذى حق قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاطاعة للمخلوق فى معصية الخالق- رواه احمد والحاكم وصححه عن عمران والحكيم ابن عمرو الغفاري وفى الصحيحين وسنن ابى داؤد والنسائي عن علىّ نحوه وَصاحِبْهُما فِي الدُّنْيا صحابا مَعْرُوفاً يرتضيه الشرع والعقل. (مسئلة) يجب بهذه الاية الانفاق على الأبوين الفقيرين وصلتهما وان كانا كافرين اھ اھ (7/ 256)
و في المصنف لإبن أبي شيبه: عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق " اھ (9/ 270)
كما في التفسير المظهري: إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ قال ابن عباس الى الإسلام وروى عنه الى التوبة قاله عكرمة وقال على بن ابى طالب رضى الله عنه الى أداء الفرائض- وروى عن انس بن مالك انها التكبيرة الاولى ومرجع الأقوال كلها الى ما يستحق به مغفرة الذنوب الموجب للتفصى من النار ورحمة الله تعالى الموجب لدخول الجنة من الإسلام والاعتقادات الحقة والأخلاق والأعمال الصالحة اھ (2 ق 1/ 137) والله اعلم بالصواب