میری عمر اٹھارہ سال ہے، میری کوئی نوکری ، ملازمت نہیں، اسی طرح میں کماتا بھی نہیں ہوں، لیکن میں جیب خرچہ اپنے والدین سے لیتا ہوں ،مسئلہ یہ ہے کہ 8-9 سال میں, میں نے زیادہ خرچ نہیں کیا ،اور میں ان پیسوں کو جمع کرتا تھا ، ابھی میرے پاس ایک لاکھ پاکستانی رقم ہے، کیا میرے لئے ضروری ہے کہ میں کسی جانور کی قربانی کرلوں ،اگر ضروری ہو تو کیا یہ صورت صحیح ہوگی کہ میں دو ماہ کے لئے یہ رقم اپنی والدہ کو دوں، اور بعد میں واپس لے لوں ؟ برائے مہربانی جلد از جلد جواب دیں۔
مذکور رقم چونکہ فی زمانہ بقدرِ نصاب بنتی ہے تو اس کی ملکیت میں ہونے کی وجہ سے سائل پر قربانی اور صدقۂ فطر وغیرہ شرعاً لازم ہے، اور پھر اس صورت میں اس کے ذمہ صرف ایک قربانی کرنا لازم ہے ، خواہ ایک بکرا یا بکری کی قربانی کرے یا گائے وغیرہ میں ایک حصہ لے کر قربانی کرے ۔ اس لئے اُسے چاہئیے کہ بلاوجہ حیلہ سازی کر کے اپنی آخرت خراب نہ کرے۔
و في الفتاوى الهندية: والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها اھ (5/ 292)۔