میرا ایک دوست ہے وہ مجھ سے پڑھنا چاہتا ہے اور وہ مجھے پڑھانے کے پیسے دیتے ہیں، لیکن اس کے ابو الجزیرہ بینک میں کام کرتے ہیں؟ تو کیا وہ جائز ہے؟
اگر مذکور بینک کی ملازمت براہ راست سودی لین دین سے متعلق ہو اور اس شخص کی کوئی دوسری حلال آمدنی بھی نہ ہو اور سائل کی تنخواہ اسی مال سے دینا طے ہو تو اس کا لینا جائر نہیں، ورنہ مکمل وضاحت لکھ کر دوبارہ حکم شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
کما فى الفتاوى الهندية: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل كذا في الينابيع اھ (5/ 342)
میزان بینک میں ملازمت اور کوئی دوسری ملازمت مل رہی ہو تو کونسی اختیار کی جائے ؟
یونیکوڈ بینک کی ملازمت 0