السلام علیکم
(۱):قربانی کی گائے اگر حاملہ ہو تو پھر قربانی کا طریقہ کار کیا ہوگا، یعنی مجھے ایک نئی گائے اس قیمت کے برابر لینی پڑے گی ؟ اگر میں گائے پہلی کی قیمت سے کم پر لے لو ں تو آیا بقایا رقم کو صدقہ کرنا پڑے گا ؟ اگر صدقہ کرنا پڑے تو کس وجہ سے کیونکہ اللہ پاک نے قربانی کا کہا ہے نہ کہ اس قیمت کا؟
(۲): خصی بکرا یا بیل کی قربانی جائز ہے ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اسلامی وجہ بتائیے جس کی وجہ سے ہم کرتے ہیں ؟
۱: غنی کے لئے کہ جس پر قربانی واجب ہو, اگر چہ ایسی گائے کا بدلنا ضروری نہیں، بلکہ اس کی قربانی کرنا شرعاً مع الکراہۃ درست ہو جائے گی، تاہم اگر ایسی صورت میں کوئی دوسری گائے اسی قیمت سے خرید کر قربانی کی تو فبہا، اگر اس قیمت سے کم میں خریدی تو جو اس کی قیمت سے بچ جائے، اس کا صدقہ کرنا شرعاً لازم ہوگا۔
۲: خصی جانور کی قربانی جائز ہے، اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس لئے اس کی قربانی کرنا افضل ہے، جبکہ خصی کرنے سے گوشت بھی لذیذ ہو جاتا ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: شاة أو بقرة أشرفت على الولادة قالوا يكره ذبحها لأن فيه تضييع الولد وهذا قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى لأن عنده الجنين لا يتذكى بذكاة الأم كذا في فتاوى قاضي خان اھ (5/ 287)۔
وايضاً : رجل اشترى شاة للأضحية وأوجبها بلسانه ثم اشترى أخرى جاز له بيع الأولى في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى وإن كانت الثانية شرا من الأولى وذبح الثانية فإنه يتصدق بفضل ما بين القيمتين اھ (5/ 294)۔
ففي سنن أبي داود: عن جابر بن عبد الله، قال: ذبح النبي صلى الله عليه وسلم يوم الذبح كبشين أقرنين أملحين موجوئين اھ (3/ 95)۔
و في اعلاء السنن: عن عائشه وعن أبی هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذااراد ان یضحیٰ اشتری کبشین عظیمین سمینین اقرنین أملحين موجوئين اھ (۱۷/ ۲۵۴)۔
و في الفتاوى الهندية : و في الفتاوى الهندية: والخصي أفضل من الفحل لأنه أطيب لحما كذا في المحيط اھ (5/ 299)۔
و في الدر المختار : ( ويضحى بالجماء والخصى والثولاء ) أي المجنونة اھ (۶/ ۳۲۳) -