السلام علیکم محترم مفتی صاحب !
مجھے قربانی کی کھال کے متعلق مسئلہ معلوم کرنا تھا کہ ہمارے علاقے میں اکثر لوگوں سے قربانی کی کھال ان کی رضا مندی کے بغیر لے لی جاتی ہے، لینے والوں کے بارے میں اطمینان نہیں کہ وہ مصرف میں استعمال بھی کرتے ہیں، یا الیکشن لڑنے میں, تو ایسی صورت میں کھال کی رقم صدقہ کی جائیگی ؟
(۲): بعض جگہ ایسا بھی ہوا کہ اگر کوئی کھال دینے سے منع کرے ،تو زندہ جانور کو گولی تک مار کر چلے جاتے ہیں ،تو اگر جانور گولی لگنے کے بعد زندہ تڑپ رہا ہو اور ذبح کر دیا جائے تو کیا اس کو کھانا حلال ہوگا ؟
۱-کھال لینے والے کے متعلق اگر یہ معلوم ہو کہ اس کی رقم مصرف پر نہیں لگائے گا ،اور کھال دینا بھی مجبوری ہو تو ایسی صورت میں قربانی کرنے والے کو چاہیئے کہ اپنی حفاظت جان کے پیش نظر اُسے کھال تو دیدے ،اور کھال کی قیمت کے برابر صدقہ بھی کردے تو بہتر ہے۔
۲- جانور کو گولی لگنے کے بعد اسے زندہ اور زخمی حالت میں ذبح کر دیا جائے، تو اس کا گوشت کھانا بلا شبہ جائز اور حلال ہے ،اور اگر قربانی کے ایام میں ایسا ہو تو قربانی بھی درست کہلائیگی۔
كما في بدائع الصنائع: وإن ضربها من القفا فإن ماتت قبل القطع بأن ضرب على التأني والتوقف لا تؤكل لأنها ماتت قبل الذكاة فكانت ميتة وإن قطع العروق قبل موته ( ( موتها ) ) تؤكل لوجود فعل الذكاة اھ (5/ 42)۔
و في تكملة فتح الملهم: عن عدى قال: قال -رسول صلى الله عليه وسلم - ولا تأكل من البندقة الاماذكيت" ( الى قوله) وأما الحنفية فالجمهور منهم في ديارنا على عدم حل الصيد بالرصاص ما لم يدرك حيا فيذبح بطريق مشروع اھ (۳/ ٤٩١٠٤۸ ، حكم الصيد بالبنادقة ) ۔
و في بدائع الصنائع: ومنها أنه يستحب في الذبح حالة الاختيار أن يكون ذلك بآلة حادة من الحديد كالسكين والسيف ونحو ذلك اھ (5/ 60)۔
وفي الدر المختار: (فإن) (بيع اللحم أو الجلد به) أي بمستهلك (أو بدراهم) (تصدق بثمنه) (6/ 328)۔