کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سلیم نے A 20A حبیب چورنگی کے پاس اپنی ایک جگہ ہوٹل کے لیے ہستی خان کو کرایہ پر دی ، ہر ماہ کا کرایہ ایک لاکھ طے ہو اور اس سے 33 لاکھ روپے ایڈوانس بھی لیے۔ ہستی خان نے ابتدائی رنگ و روغن کے بعد تقریباً 29 تا 30 ماہ تک نہ ہوٹل کا کام شروع کیا اور نہ جگہ واپس کی، جبکہ اس دوران اس سے کہا جاتا رہا کہ اس جگہ پر کام شروع کرو لیکن اس نے نہیں کیا ۔ اب مالک یہ چاہتا ہے کہ مذکورہ مدت کا کرایہ ایڈوانس رقم میں سے نکال کرکے باقی رقم ہستی خان کو واپس کردے۔ تو معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس مدت کا کرایہ اس کی دی ہوئی ایڈوانس رقم سے نکال سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور بقیہ رقم ہم اس کے حوالہ کردیں گے ، قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
ہستی خان کا مؤقف: ابتدا ء سے ہماری بات ہوئی تھی کہ میں نے سلیم سے جگہ کرایہ پر مانگی ، اس نے مجھے کہا کہ اس میں کاروبار کرنے کے لئے پولیس اور کے ایم سی وغیرہ منع کرتے ہیں ،تو میں نے کہا کہ یہ میری ذمہ داری ہے میں سنبھال لونگا ،تو سلیم صاحب نے جگہ الگ کرکے میرے حوالہ کی دیوار لگائی ، اور ہمارے درمیان کرایہ داری کی بات یہ ہوئی کہ پہلے تین ماہ 70000 کرایہ ہوگا بعد میں ماہانہ ایک لاکھ کرایہ ہوگا ،پھر جب میں نے بنانا شروع کیا تو پولیس کے ایم سی والوں نے روک دیا ، اور چونکہ متعلقہ ادارے سے بات چیت کرکے اس معاملہ کا حل ممکن تھا اس لئے ہم کوشش کرتے رہے،لیکن ہم کام شروع نہ کرسکے ،اس دوران ہم نے کوشش بھی کی لیکن سلیم صاحب بیرون ملک تھے ، ان کے منیجر سے بھی بات ہوئی لیکن کام شروع نہیں ہوسکا ، اس دوران میں بھی گاؤں چلا گیا اور یہ جگہ ایسے خالی پڑی رہی ، اور میری یہ سستی ہے کہ کام بھی شروع نہیں کرسکا اور جگہ بھی مالک کو واپس نہیں کی اور اس سلسلے میں ایڈوانس 33 لاکھ روپیہ بھی دے چکا تھا ،یہ جگہ ہمارے قبضہ میں تقریباً 25 /30 ماہ رہی ، نہ کام شروع کرسکا اور نہ ہی سلیم صاحب نے کرایہ کا مطالبہ کیا تھا ،اب آگے جو بھی شرعی حکم ہو اس کے مطابق جواب عنایت فرمائیں ۔
سوال میں دو طرفہ تفصیل کے مطابق جب ہستی خان نے مذکورہ جگہ ہوٹل کے لیے کرایہ پر لی، تو چونکہ ابتداءً ہی اسے اس بات سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ اس جگہ پر ہوٹل وغیرہ کا کاروبار کرنے میں پولیس، کے ایم سی اور دیگر حکومتی اداروں کی طرف سے رکاوٹ پیش آسکتی ہے، جس پر ہستی خان نے خود یہ مسائل حل کرنے کی ذمہ داری لے لی تھی اور اس کے بعد باہمی رضامندی سے مالک سلیم کی طرف سے جب مذکورہ جگہ ہستی خان کے حوالہ کردی گئی، اور اس نے ابتدائی رنگ و روغن بھی کروایا۔نیز حکومتی اداروں کی طرف سے رکاوٹ پیش آنے پر نہ تو انہوں نے معاہدہ ختم کرنے کے متعلق کوئی بات کی اور نہ ہی اس معاملہ کے ممکنہ حل کی کوشش کی بلکہ خود ہی اس معاملہ کو لٹکائے رکھا ۔ توا جارہ کا یہ معاملہ مکمل ہوجانے کی وجہ سے حسب معاہدہ مسمیٰ ہستی خان کے ذمہ مذکورہ جگہ کے کرایہ کی ادائیگی لازم ہے۔ چنانچہ اگر 29/30 ماہ کا کرایہ ادا نہ کیا گیا ہو، تو اب معاملہ ختم کرتے وقت جگہ کا مالک مسمیٰ سلیم ایڈوانس رقم سے واجب الاداکرایہ کی رقم منہا کرسکتا ہے ۔ تاہم ہستی خان مذکورہ جگہ پر حکومتی پاپندیوں کی وجہ سے کاروبار شروع نہیں کرسکا ،اس لئے اگر جگہ کا مالک سلیم اپنی رضامندی سے اس کے نقصان کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے کرایہ میں کچھ رعایت دینا چاہے تو دے سکتا ہے اور یہ باعث اجرو ثواب بھی ہوگا ۔
کما فی الفتویٰ الھندیۃ: وتسليم المعقود عليه في الإجارة هو التمكين من الانتفاع به وذلك بتسليم المحل إليه بحيث لا مانع من الانتفاع به فإن عرض في بعض المدة ما يمنع الانتفاع به كما لو غصبت الدار من المستأجر أو غرقت الأرض المستأجرة أو انقطع عنها الشرب أو مرض العبد أو أبق سقطت الأجرة بقدر ذلك. كذا في محيط السرخسي. تسليم المفتاح في المصر مع التخلية بينه وبين الدار تسليم للدار حتى تجب الأجرة بمضي المدة،الخ (الباب الثاني عشر في صفة تسليم الإجارة، ج: 4، ص: 437، ط: ماجدیۃ)
وفیہ ایضاً:استأجر أرضا للزراعة فخرب النهر الأعظم وعجز عن السقي كان له أن يفسخ الإجارة وإن لم يفسخ حتى مضت المدة كان عليه أجرها إذا كان بحال يمكنه أن يحتال بحيلة فيزرع فيها شيئا وإن كان لا يقدر على ذلك بوجه من الوجوه فلا أجر عليه (ج4 ص:462 الباب التاسع عشر في فسخ الإجارة بالعذر ط:دار الفكر)
وفی ردالمحتارتحت قول الدر: (أو تمكنه منه): في الهداية: وإذا قبض المستأجر الدار فعليه الأجرة وإن لم يسكن. قال في النهاية: وهذه مقيدة بقيود: أحدهما التمكن، فإن منعه المالك أو الأجنبي أو سلم الدار مشغولة بمتاعه لا تجب الأجرة ۔الثاني أن تكون صحيحة، فلو فاسدة فلا بد من حقيقة الانتفاع. الثالث أن التمكن يجب أن يكون في محل العقد، حتى لو استأجرها للكوفة فأسلمها في بغداد بعد المدة فلا أجر. الرابع أن يكون متمكنا في المدة، فلو استأجرها إلى الكوفة في هذا اليوم وذهب بعد مضي اليوم بالدابة ولم يركب لم يجب الأجر؛ لأنه إنما تمكن بعد مضي المدة طوري، الخ (شروط الإجارة، ج: 6، ص: 11، مط: سعیدکراچی)
وفی ردالمحتار تحت قول الدر):وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس للمجانسة في المالية. قال في المجتبى وهو أوسع فيعمل به عند الضرورة): قلت: وهذا ما قالوا: إنه لا مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر. قال: ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري: أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق، والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان، لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق،الخ (كتاب السرقة، ج: 4، ص: 95، مط: سعید)