مخاصمات

زمین پندرہ سال سے زائد ملکیت میں ہو اور بلا مانع شرع کوئی مدعی سامنے نہ آئے

فتوی نمبر :
92400
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مخاصمات / مخاصمات

زمین پندرہ سال سے زائد ملکیت میں ہو اور بلا مانع شرع کوئی مدعی سامنے نہ آئے

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ضلع تور غر ایک پسماندہ اور غیر بندوبستی علاقہ ہے،جہاں زمینوں اور مکانات کے باقاعدہ تحریری کاغذات اور رجسٹریشن کا عمومی رواج نہیں ۔ اس علاقے میں صدیوں سے مساجد قائم ہیں اور انہی مساجد میں ائمہ کرام نسل در نسل امامت کے فرائض سر انجام دیتے آرہے ہیں ۔ ان ائمہ کرام کو گاؤں والوں کی طرف سے امامت کے عوض فصلانہ (فصل کا حصہ/اناج وغیرہ )دیا جاتا رہاہے۔اس کے ساتھ ساتھ بعض زمینیں بھی صدیوں سے ائمہ کرام کے تصرف میں چلی آرہی ہیں ۔ ان زمینوں کے بارے میں ائمہ کرام کایہ دعویٰ ہے کہ یہ زمینیں ان کی اپنی ملکیت ہے، جبکہ بعض دیگر افراد کا کہنا ہے کہ یہ زمینیں ائمہ کرام کو امامت کے عوض دی گئ تھی ،یعنی اگر وہ امامت کریں گے تو زمین ان کے پاس رہے گی اور اگر امامت چھوڑ دیں گے تو یہ زمین ان کی نہیں رہے گی۔ جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ ان زمینوں پر ائمہ کرام کئ صدیوں سے بلا نزاع قابض اور متصرف ہیں ،ان زمینوں میں وراثت نسل در نسل جاری ہے، بعض ائمہ کرام نے ان زمینوں کا آپس میں تبادلہ کیا ہے، بعض زمینیں نقد رقم کے عوض فروخت بھی کی گئ ہیں ، بعض ائمہ کرام نے ان زمینوں پر پکے مکانات تعمیر کئے ہیں ، ان زمینوں سے گھاس ،لکڑی اور دیگر فوئد حاصل کئے جاتے رہے ہیں ۔ اور ان زمینوں سے ریتی ، بجری بھی فروخت کی جاتی رہی ہے، بعض ائمہ کرام نے اضافی مکانات کرایہ پر دے رکھے ہیں اور ان کا کرایہ خود وصول کرتے ہیں، ایک گاؤں میں ائمہ کرام اور گاؤں والوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوئی تو گاؤں والوں نے دوسرے گاؤں سے امام لاکر امامت کروائی ، جبکہ سابقہ ائمہ کرام اسی گاؤں میں مقیم رہے اور ان زمینوں سے بدستور فائدہ اٹھاتے رہے جو پہلے سے ان کے قبضے میں تھیں ۔ ایک مقام پر نئی مسجد تعمیر کی گئی اس میں بھی ائمہ کرام کے خاندان کے افراد امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور انہیں فصلانہ دیا جارہا ہے مگر وہاں نئی زمین امام کو نہیں دی گئی، اگر زمین واقعی امامت کے عوض مشروط ہوتی تو نئی مسجد میں امامت کرنے والوں کو بھی زمین دی جانی چاہیئے تھی جو نہیں دی گئی،تربیلہ ڈیم کی تعمیر کے دوران کچھ زمینیں زیر آب آگئیں،ان میں بعض زمینیں ائمہ کرام کی تھیں،جن پر حکومت کی جانب سے باقاعدہ معاوضہ (رقم یا پلاٹ) زمین کی حساب سے ائمہ کرام کو ادا کیا گیا،جب قوم اکازئی کا دیگر اقوم اور نواب آف تناول کے ساتھ زمینوں کا تنازعہ چلا تو باقاعدہ طور پر ان مساجد کے ائمہ کرام نے بھی چندہ دیا اور یہ چندہ صرف اس شخص سے لیا جاتاتھا جس کی ملکیت میں زمین ہوتی تھی اور جو کسی زمین کا مالک نہ ہوتا اس سے چندہ نہیں لیا جاتاتھا ، ان تمام تفصیلات کی روشنی میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا شرعاً یہ زمینیں ائمہ کرام کی مستقل اور موروثی ملکیت شمار ہوگی؟ ان زمینوں کو امامت کے ساتھ مشروط مانا جائے گا کہ امامت چھوڑنے کی صورت میں زمین بھی واپس لینا جائز ہوگا ؟
برائے مہربانی قران وسنت کی روشنی میں اس مسئلہ کا جواب مرحمت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ فقہاء کرام نے زمین وجائیداد کے سلسلہ میں متنازعات کے حوالے سے 15سال کی ایک حد مقرر کی ہے کہ اگر کوئی زمین کسی کے قبضہ میں ہو اور وہ طویل عرصہ سے اس میں مالکانہ تصرفات(کاشت خرید وفروخت اور تبادلے وغیرہ )کرتا آرہا ہو اور اس دوران بلا مانع شرعی کوئی مدعی سامنے نہ آئے پھر پندرہ سال گزرنے کے بعد کوئی شخص دعویٰ کرے، تو ایسے شخص کا دعویٰ قابل سماعت نہیں بلکہ عدالت یا جرگہ اسے رد کریگا ، لہذا صورت مسؤلہ میں سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ مذکور زمینیں صدیوں سے مذکور خاندانوں کے قبضہ اور زیر استعمال چلی آرہی ہوتو ایسی صورت میں بعض افراد کا یہ کہنا کہ یہ عاریۃ اور بشرط امامت دی گئ تھیں،شرعاًمعتبر نہیں ,اور دعویٰ یا مقدمہ کرکے زمینیں متعلقہ لوگوں سے چھین کر واپس لینا جائز نہیں ، ایسے دعاوی سے احترازلازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: حتى لو أمر السلطان بعد سماع الدعوى بعد خمسة عشر سنة فسمعها لم ينفذقلت: فلا تسمع الآن بعدها إلا بأمر(ج:5،ص:419،مط:ایچ ایم سعید).
وفی رد المحتار :(تحت قولہ قوله: فلا تسمع الآن بعدها) أي لنهي السلطان عن سماعها بعدها فقد قال السيد الحموي في حاشية الأشباه: أخبرني أستاذي شيخ الإسلام يحيى أفندي الشهير بالمنقاري أن السلاطين الآن يأمرون قضاتهم في جميع ولاتهم أن لا يسمعوا دعوى بعد مضي خمس عشرة سنة سوى الوقف والإرث اهـ. ونقل في الحامدية فتاوى من المذاهب الأربعة بعدم سماعها بعد النهي المذكور.(حوالہ بالا)
وفی مجمع الفقہ الاسلامیہ: ‌وقبض ‌كل ‌شيء بحسبه. . . وقال أبو حنيفة: التخلية في ذلك قبض، وقد روى أبو الخطاب عن أحمد رواية أخرى، أن القبض في كل شيء التخلية مع التمييز لأنه خلى بينه وبين المبيع من غير حائل فكان قبضًا له كالعقار. . . إلى أن قال: ولأن القبض مطلق في الشرع فيجب الرجوع فيه إلى العرف كالإحراز والتفرق. (ج:6،ص:532)
وفی الدر المختار: (و) تصح (بقبول) أي في حق الموهوب له أما في حق الواهب فتصح بالإيجاب وحده؛ لأنه متبرع حتى لو حلف أن يهب عبده لفلان فوهب ولم يقبل بر وبعكسه حنث بخلاف البيع(و) تصح (بقبض بلا إذن في المجلس) فإنه هنا كالقبول فاختص بالمجلس (وبعده به) أي بعد المجلس بالإذن، وفي المحيط لو كان أمره بالقبض حين وهبه لا يتقيد بالمجلس ويجوز القبض بعده (والتمكن من القبض كالقبض فلو وهب لرجل ثيابا في صندوق مقفل ودفع إليه الصندوق لم يكن قبضا) لعدم تمكنه من القبض (وإن مفتوحا كان قبضا لتمكنه منه) فإنه كالتخلية في البيع اختيار وفي الدرر والمختار صحته بالتخلية في صحيح الهبة لا فاسدها وفي النتف ثلاثة عشر عقدا لا تصح بلا قبض (ولو نهاه) عن القبض (لم يصح) قبضه (مطلقا) ولو في المجلس؛ لأن الصريح أقوى من الدلالة(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔(ج:5،ص:590،مط:ایچ ایم سعید)
وفی البحر الرائق: قوله وقبض بلا إذن في المجلس وبعده به) يعني وبعد المجلس لا بد من الإذن صريحا فأفاد أنه لا بد من القبض فيها لثبوت الملك لا للصحة والتمكن من القبض كالقبض(ج:7،ص:285)
کذا فی فتاویٰ عثمانی(ج:3،ص:523،مط مکتبہ معارف القرآن کراچی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92400کی تصدیق کریں
0     41
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فریقین میں پیسوں کے متعلق کا قرض اور ہدیہ میں اختلاف کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 3
  • سنی کے نام میں ’’شاہ‘‘ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ ’’شیعہ‘‘ جیسا سلوک کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • قرآن پر جھوٹا حلف اٹھانے والے کا حکم-جھوٹی قسم سے کسی چیز کے مالک ہونے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • باپ کی زندگی میں, بیٹے کا اپنی کمائی سے خریدے ہوئےگھر میں وراثت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین اور گھر کی خریدی کے تین مہینے بعد شفعہ کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • گاڑی گم ہونے پر ، ڈرائیور سے ،زمانۂ گمشدگی کےمتوقع منافع اور گاڑی تلاش کرنے کے اخراجات لینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بیٹا اگر ذاتی کمائی سے مکان بنائے تو اس میں اس کے والد اور بھائیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بلا سببِ شرعی بھائی کی جائیداد میں حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اولاد کی شہادت کی کیا حیثیت ہے ؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • ساس کا اپنی بہو کا سونا اس کی اجازت کے بغیر بیٹی کو دیدینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • حقوق ادا نہ کرنے والے اور طلاق نہ دینے والے شوہر سے خلاصی کا طریقہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • شوہر کی جانب سے اپنی بیوی پر کسی سے ناجائز تعلقات کے دعوے میں جرگہ کی رہنمائی

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • دوسرے کی زمین غصب کرنے کا حکم-اور اس کو اسی وجہ سے قتل کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگے کا عورت کے حق میں شوہر کے خلاف یکطرفہ پابندیا ں عائد کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   مخاصمات 0
  • مشترکہ گھر کی دیوار میں دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین پندرہ سال سے زائد ملکیت میں ہو اور بلا مانع شرع کوئی مدعی سامنے نہ آئے

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • سرکاری انتقال کے بغیر خریدی گئی زمین کی ملکیت کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
Related Topics متعلقه موضوعات