موصف خان ولد مظفر خان، سکنہ گاؤں خواجہ خیل، ڈاکخانہ زیارت شیخ اللہ داد صاحب کوہاٹ۔
میں 1992ء میں ریٹائرڈ ہوا، اور مجھے کمیوٹ /پنشن ملی، جس سے میں نے گاؤں میں زرعی زمین خریدلی، مجھے کورٹ کے لئے فتوی چاہیئے، کیا میرے بھائیوں یا شریک چچازاد بھائیوں کا اس زمین میں حصہ ہے یا نہیں؟
اور جب میرا بھائیوں سے حساب، کتاب، خرچ، اور نفع و نقصان علیحدہ ہوگیا تو میں آگیا، اور میں نے قائم خانی کالونی بلدیہ ٹاؤن میں تین پلاٹ خریدے، اور اس پر اپنے خرچے سے تعمیر کی، کیا ان مکانوں میں میرے بھائیوں یا شریک چچازاد بھائیوں کا حصہ ہے یا نہیں؟
مہربانی کرکے مجھے شرعی فتوی دیکر میری مشکل آسان کریں۔
نوٹ: سائل سے بذریعہ فون معلوم ہوا کہ مذکور زمین اور پلاٹ وغیرہ صرف اپنی ذاتی کمائی سے بنا کسی کی شرکت کے خریدے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے پنشن کی رقم سے علاقے میں جو زمین خریدی ہے، اسی طرح بھائیوں کے ساتھ حساب کرکے کراچی آنے کے بعد ذاتی رقم سے جو پلاٹ خریدے ہیں، یہ سب سائل کی ذاتی ملکیت ہے، اس میں سائل کے بھائیوں اور دیگر چچازاد وغیرہ کا شرعاً کوئی حصہ نہیں، اور نہ ہی انہیں اس جائیداد میں کسی قسم کی حصہ داری کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے، لہذا انہیں چاہیئے کہ وہ اپنے اس غیر شرعی مطالبہ سے باز آکر بلاوجہ سائل کو پریشان نہ کریں۔
کما فی درر الحکام: اتحاد الصنعة، فإذا كان الأب مزارعا والابن صانع أحذية فكسب الأب من المزارعة والابن من صنعة الحذاء، فكسب كل منهما لنفسه وليس للأب المداخلة في كسب ابنه لكونه في عياله.
وقول المجلة (مع ابنه) إشارة لهذا الشرط. مثلا إن زيدا يسكن مع أبيه عمرو في بيت واحد ويعيش من طعام أبيه وقد كسب مالا آخر فليس لإخوانه بعد وفاة أبيه إدخال ما كسبه زيد في الشركة.(الی قولہ) أما إذا كان للزوجة كسب على حدة فكافة الكسب لها ولا تعد معينة للزوج الخ (ج3 صـ421 المبحث الثانی ط: دارالحیل)۔