مخاصمات

گاڑی گم ہونے پر ، ڈرائیور سے ،زمانۂ گمشدگی کےمتوقع منافع اور گاڑی تلاش کرنے کے اخراجات لینا

فتوی نمبر :
47370
| تاریخ :
2021-09-17
معاملات / مخاصمات / مخاصمات

گاڑی گم ہونے پر ، ڈرائیور سے ،زمانۂ گمشدگی کےمتوقع منافع اور گاڑی تلاش کرنے کے اخراجات لینا

میرا سوال یہ ہے کہ میرا ٹریلر پر میری اجازت کے بغیر ڈرائیور (جو بار برداری کے لۓ چلا رہا تھا) نے کہیں غائب کر دیا ہے، تین سال سے میں اس کی تلاش میں ہوں ، کیا میں اپنے ڈرائیور سے گزشتہ سالوں کی متوقع آمدنی کا مطالبہ کرسکتا ہوں؟ اسی طرح جو مجھ سے گاڑی کی تلاش میں جو خرچ ہو چکے ہیں ، کیا ان کا مطالبہ کر سکتا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں ، تاہم سوال میں ذکر کردہ و ضاحت ، واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی طرح کی غلط بیانی اور دھو کہ دہی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ واقعۃً مذکور ڈرائیور نے سائل کی اجازت کے بغیر ، از خود مذکور ٹریلر کو غائب کر دیا ہو ، یا پھر اس کی اپنی لاپر واہی سے کہیں غائب (چوری) ہو گیا ہو ، تو ایسی صورت میں مذکور ڈرائیور اس ٹریلر کا ضامن ہو گا ، لہذا سائل کے لۓ ٹریلر یا پھر اس کی قیمت کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے ، لیکن مذکور مدت کے درمیان متوقع آمدنی کا مطالبہ کرنا تو درست نہیں ، البتہ ٹریلر کی تلاشِ بسیار یا فریقِ مخالف کی مخاصمانہ کاروائیوں کی بناء پر جو واقعی اخراجات ہوئے ہوں ، اور سائل کے پاس ان کے ثبوت بھی موجود ہوں ، تو ایسی صورت میں ہونے والے واقعی خرچہ کے مطالبہ کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في اللباب في شرح الكتاب : و الأجراء على ضربين : أجير مشترك ، و أجير خاص ، فالمشترك : من لا يستحق الأجرة حتى يعمل كالصباغ و القصار ، و المتاع أمانة في يده (إلی قوله)(و لا ضمان على الأجير الخاص فيما تلف في يده) بأن سرق منه أو غصب لأنه أمانة في يده ، لأنه قبضه بإذنه (و لا ما تلف من عمله) العمل المعتاد : كتخريق للثوب من دقه ، لأن منافعه صارت مملوكة للمستأجر ، فإذا أمره بالصرف إلى ملكه صح وصار نائبا منابه فصار فعله منقولا إليه كأنه فعله بنفسه، قيدنا العمل بالمعتاد لأنه لو كان غير معتاد بأن تعمد الفساد ضمن كالمودع اھ (۱/ ۱۸۱)۔
و فی حاشية ابن عابدين : مطلب في ضمان الساعي ثم حاصل ما ذكره من ضمان الساعي أنه لو سعى بحق لا يضمن و لو بلا حق ، فإن كان السلطان يغرم بمثل هذه السعاية ألبتة يضمن ، و إن كان قد يغرم و قد لا يغرم لا يضمن و الفتوى على قول محمد من ضمان الساعي بغير حق مطلقا و يعزر اھ (4/ 89)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 47370کی تصدیق کریں
0     688
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فریقین میں پیسوں کے متعلق کا قرض اور ہدیہ میں اختلاف کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 3
  • سنی کے نام میں ’’شاہ‘‘ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ ’’شیعہ‘‘ جیسا سلوک کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • قرآن پر جھوٹا حلف اٹھانے والے کا حکم-جھوٹی قسم سے کسی چیز کے مالک ہونے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • باپ کی زندگی میں, بیٹے کا اپنی کمائی سے خریدے ہوئےگھر میں وراثت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین اور گھر کی خریدی کے تین مہینے بعد شفعہ کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • گاڑی گم ہونے پر ، ڈرائیور سے ،زمانۂ گمشدگی کےمتوقع منافع اور گاڑی تلاش کرنے کے اخراجات لینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بیٹا اگر ذاتی کمائی سے مکان بنائے تو اس میں اس کے والد اور بھائیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بلا سببِ شرعی بھائی کی جائیداد میں حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اولاد کی شہادت کی کیا حیثیت ہے ؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • ساس کا اپنی بہو کا سونا اس کی اجازت کے بغیر بیٹی کو دیدینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • حقوق ادا نہ کرنے والے اور طلاق نہ دینے والے شوہر سے خلاصی کا طریقہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • شوہر کی جانب سے اپنی بیوی پر کسی سے ناجائز تعلقات کے دعوے میں جرگہ کی رہنمائی

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • دوسرے کی زمین غصب کرنے کا حکم-اور اس کو اسی وجہ سے قتل کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگے کا عورت کے حق میں شوہر کے خلاف یکطرفہ پابندیا ں عائد کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   مخاصمات 0
  • مشترکہ گھر کی دیوار میں دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • سرکاری انتقال کے بغیر خریدی گئی زمین کی ملکیت کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
Related Topics متعلقه موضوعات