میرا سوال یہ ہے کہ میرا ٹریلر پر میری اجازت کے بغیر ڈرائیور (جو بار برداری کے لۓ چلا رہا تھا) نے کہیں غائب کر دیا ہے، تین سال سے میں اس کی تلاش میں ہوں ، کیا میں اپنے ڈرائیور سے گزشتہ سالوں کی متوقع آمدنی کا مطالبہ کرسکتا ہوں؟ اسی طرح جو مجھ سے گاڑی کی تلاش میں جو خرچ ہو چکے ہیں ، کیا ان کا مطالبہ کر سکتا ہوں؟
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں ، تاہم سوال میں ذکر کردہ و ضاحت ، واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی طرح کی غلط بیانی اور دھو کہ دہی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ واقعۃً مذکور ڈرائیور نے سائل کی اجازت کے بغیر ، از خود مذکور ٹریلر کو غائب کر دیا ہو ، یا پھر اس کی اپنی لاپر واہی سے کہیں غائب (چوری) ہو گیا ہو ، تو ایسی صورت میں مذکور ڈرائیور اس ٹریلر کا ضامن ہو گا ، لہذا سائل کے لۓ ٹریلر یا پھر اس کی قیمت کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے ، لیکن مذکور مدت کے درمیان متوقع آمدنی کا مطالبہ کرنا تو درست نہیں ، البتہ ٹریلر کی تلاشِ بسیار یا فریقِ مخالف کی مخاصمانہ کاروائیوں کی بناء پر جو واقعی اخراجات ہوئے ہوں ، اور سائل کے پاس ان کے ثبوت بھی موجود ہوں ، تو ایسی صورت میں ہونے والے واقعی خرچہ کے مطالبہ کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔
كما في اللباب في شرح الكتاب : و الأجراء على ضربين : أجير مشترك ، و أجير خاص ، فالمشترك : من لا يستحق الأجرة حتى يعمل كالصباغ و القصار ، و المتاع أمانة في يده (إلی قوله)(و لا ضمان على الأجير الخاص فيما تلف في يده) بأن سرق منه أو غصب لأنه أمانة في يده ، لأنه قبضه بإذنه (و لا ما تلف من عمله) العمل المعتاد : كتخريق للثوب من دقه ، لأن منافعه صارت مملوكة للمستأجر ، فإذا أمره بالصرف إلى ملكه صح وصار نائبا منابه فصار فعله منقولا إليه كأنه فعله بنفسه، قيدنا العمل بالمعتاد لأنه لو كان غير معتاد بأن تعمد الفساد ضمن كالمودع اھ (۱/ ۱۸۱)۔
و فی حاشية ابن عابدين : مطلب في ضمان الساعي ثم حاصل ما ذكره من ضمان الساعي أنه لو سعى بحق لا يضمن و لو بلا حق ، فإن كان السلطان يغرم بمثل هذه السعاية ألبتة يضمن ، و إن كان قد يغرم و قد لا يغرم لا يضمن و الفتوى على قول محمد من ضمان الساعي بغير حق مطلقا و يعزر اھ (4/ 89)۔