مخاصمات

عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اولاد کی شہادت کی کیا حیثیت ہے ؟

فتوی نمبر :
70596
| تاریخ :
2024-01-28
معاملات / مخاصمات / مخاصمات

عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اولاد کی شہادت کی کیا حیثیت ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علماءِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ میں ! میرا نام محمد سعید ہے ، غوثیہ کالونی کا رہائشی ہوں ، اور عرصہ دراز سے ذہنی بیماری میں مبتلا ہوں جس کے لئے نیند اور سکون کی دواء استعمال کرتا ہوں ، جس کے گواہ میرے ساتھ آئے میرے بھائی اور بیوی بچے بھی ہیں ، گزشتہ ہفتہ کو میں دوائی کھا کر سو رہا تھا ، میری بیوی بچوں کو کام پر جانے کے لئے جگارہی تھی اور شور شرابہ ہو رہا تھا جس پر میری آنکھ کھل گئی ، میں نے اس پر اپنی بیوی کو غصہ کرتے ہوئے اسے کہا کہ "میں تمہیں طلاق دیدونگا " میری یاداشت کے مطابق شاید یہ الفاظ دو بار دہرائے ، میں نے اسکو دھمکی کے طور پر ادا کئے تھے ۔
بیوی کا بیان ! نازیہ سعید
میں اس بات کی تصدیق کرتی ہوں کہ میرے شوہر نفسیاتی مریض ہے ، اور اس بیماری کا مستقل علاج بھی کرواتے ہیں ، اور نفسیاتی ہسپتال میں زیر علاج بھی رہے ہیں ، اور شدید غصہ کی حالت میں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ، مذکور واقعہ کے روز بھی دواء کھاکر سو رہے تھے ، جب میں بچوں کو جگاتے ہوئے شور کر رہی تھی تو انکی آنکھ کھل گئی جس پر غصہ کی حالت میں انہوں نے ایک بار یہ کہاکہ "میں طلاق دیدونگا " اور دوبار کہا "میں طلاق دیتا ہوں "۔
محمد سعد ، محمد جواد ! بیٹوں کا بیان
بچے اپنی والدہ کے بیان کی تصدیق کرتے ہیں کہ ابونے ایک بار کہا " دیدونگا " اور دوبار کہا "دیتاہوں "۔
شیر محمد ولد دین محمد کا بیان ! بھائی کا بیان
مذکور واقعہ میں موجود نہیں تھا ، البتہ بھائی کی نفسیاتی بیماری کی تصدیق کرتا ہوں اور اس کے علاج کے سلسلے میں مختلف ہسپتالوں میں لیکر جاتا رہاہوں اور انہیں شادی سے پہلے سے یہ بیماری ہے اور نیندکی گولیاں دی جاتی ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مفتی غیب نہیں جانتا ، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے ، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں بیوی مسماۃ نازیہ سعید اپنے شوہر کے خلاف مذکور الفاظ "میں طلاق دیتاہوں " کے ذریعہ دو طلاقوں کا دعوی کر رہی ہے ، جبکہ عورت کے پاس اپنے دعوی پر گواہان موجود نہیں اور دونوں بیٹے مسمی محمد سعد اور محمد جواد اپنی ماں کے حق میں جو گواہی دے رہے ہوں ، وہ شرعاً معتبر نہیں ، چنانچہ اگر ایسی صورتِ حال ہو جائے کہ عورت اپنے کانوں سے الفاظِ طلاق سننے کا دعوی کر رہی ہو ، لیکن اس کے پاس اپنے اس دعوی پر شرعی شہادت موجود نہ ہواور شوہر طلاق دینے سے منکر ہو اور اپنی اس بات پر قسم کھانے اور آخرت کی جواب دہی کے لئے بھی تیار ہو تو ایسی صورت میں المرأۃ کالقاضی کے اصول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عورت اپنے آپ کو مطلقہ سمجھے ، اور اگر شوہر تیسری طلاق بھی دیدے تو اس کو اپنے اوپر ہرگز قدرت نہ دے ،لیکن اگر یہ معاملہ قاضی (جج) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی گواہان کے نہ ہونے کی صورت میں شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ کردے اور عورت کو اس کے ساتھ بھیج دے تو ایسی صورت میں عورت گناہ گار نہ ہوگی ، البتہ اس کو چاہیئے کہ حتی الامکان اپنے اوپر ہر گز قدرت نہ دے ، بلکہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ شوہر سے جدائی اختیار کرنے کی پوری کوشش کرے ،جبکہ صورتِ مسئولہ میں شوہر کے پاس چونکہ دیانۃ ایک طلاق کا اختیار باقی ہے ، لہذا اگر شوہر دورانِ عدت رجوع کرلے تو دونوں کا ایک ساتھ رہنا شرعاً جائز ہوگا ، البتہ آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایۃ: الطلاق علی ضربین صریح وکنایۃ فالصریح قولہ انت طالق ومطلقۃ (الی قولہ) فھذا یقع بہ الطلاق الرجعی الخ (ج 2 ص 61)۔
وفی شرح المجلۃ : وفی البحر عن الولوالجیۃ وتجوز شھادۃ الابن علی ابیہ بطلاق امراتہ ، ان لم یکن لامہ او لضرتھا لانھا شھادۃ علی ابیہ وان کانت لامہ او لضرتھا لا تجوز لانھا شھادۃ لامہ ، وقولہ وان کانت لامہ الخ ، یعنی وکانت الام تدعی اذ لو کانت تجحد قبلت الخ (ج 5 ص 256)۔
وفی الھندیۃ : قال محمد رحمہ اللہ تعالی فی الجامع رجلان شھدا ان اباھما طلق امھما فان کان الاب یدعی فلا حاجۃ الی الشھادۃ وان کان الاب یجحد فان کان الام تدعی فلا تقبل شھادتھما وان کانت تجحد تقبل شھادتھما الخ (ج 3 ص 482)۔
وفیھا ایضا : وان شھدا ان اباھما خالع امھما علی صداقھا لہ فان ادعی الاب ذلک لا تقبل شھادتھما وان جحد الاب فان کانت الام تدعی لا تقبل شھادتھما الخ (ج 3 ص 482)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70596کی تصدیق کریں
0     1252
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فریقین میں پیسوں کے متعلق کا قرض اور ہدیہ میں اختلاف کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 3
  • سنی کے نام میں ’’شاہ‘‘ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ ’’شیعہ‘‘ جیسا سلوک کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • قرآن پر جھوٹا حلف اٹھانے والے کا حکم-جھوٹی قسم سے کسی چیز کے مالک ہونے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • باپ کی زندگی میں, بیٹے کا اپنی کمائی سے خریدے ہوئےگھر میں وراثت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین اور گھر کی خریدی کے تین مہینے بعد شفعہ کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • گاڑی گم ہونے پر ، ڈرائیور سے ،زمانۂ گمشدگی کےمتوقع منافع اور گاڑی تلاش کرنے کے اخراجات لینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بیٹا اگر ذاتی کمائی سے مکان بنائے تو اس میں اس کے والد اور بھائیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بلا سببِ شرعی بھائی کی جائیداد میں حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اولاد کی شہادت کی کیا حیثیت ہے ؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • ساس کا اپنی بہو کا سونا اس کی اجازت کے بغیر بیٹی کو دیدینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • حقوق ادا نہ کرنے والے اور طلاق نہ دینے والے شوہر سے خلاصی کا طریقہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • شوہر کی جانب سے اپنی بیوی پر کسی سے ناجائز تعلقات کے دعوے میں جرگہ کی رہنمائی

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • دوسرے کی زمین غصب کرنے کا حکم-اور اس کو اسی وجہ سے قتل کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگے کا عورت کے حق میں شوہر کے خلاف یکطرفہ پابندیا ں عائد کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   مخاصمات 0
  • مشترکہ گھر کی دیوار میں دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین پندرہ سال سے زائد ملکیت میں ہو اور بلا مانع شرع کوئی مدعی سامنے نہ آئے

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • سرکاری انتقال کے بغیر خریدی گئی زمین کی ملکیت کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگہ کا فیصلہ نہ ماننے سے شفعہ کاحق باقی رہے گا یا نہیں؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
Related Topics متعلقه موضوعات