السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! جناب مفتی صاحب ! گذارش یہ ہے کہ مجھے بڑے بھائی جمال الدین کی طرف سے 14 سال پہلے 27 ہزار ملے تھے ، تب میری بھابھی نے کہا کہ اس رقم کا میرے لئے سونا خریدنا ، میں نے 10 گرام سونا ، کچھ رقم کم تھی وہ اپنی رقم ڈال کر پوری کی، سونا لاکر اپنی والدہ کے حوالے کیا ، والدہ نے سونا بھائی کو دینے سے منع کیا اور اپنی بیٹی کو شادی میں دے دیا۔ اب میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے ، رہنمائی فرمائیں کہ کیا اب میری والدہ کی چھوڑی ہوئی میراث سے رقم 27,000 ادا ہوگی یا سونا ادا ہوگا، اگر سونا ادا ہوگا تو کتنا ؟ جو رقم میں نے اپنی طرف سے ڈالی تھی وہ کاٹ کر ادا ہوگا ، یا میں اپنے بڑے بھائی جمال الدین کو رقم ادا کروں گا ، یا سونا ادا ہوگا ، اگر سونا ادا ہوگا تو وہ کتنا ، ایسی صورت میں کیا حکم ہے ؟ شکریہ
نوٹ : بذریعہ فون معلوم ہوا کہ مذکور رقم (27,000) سائل کی بھابھی کی تھی، جو والدہ کے پاس بطور امانت رکھی ہوئی تھی ، پھر بھا بھی کے کہنے پر سائل نے والدہ سے وہ پیسے لے کر سونا خریدنے کے بعد وہ سونا والدہ کو دے دیا تھا ۔ اس کے بعد والدہ نے بہو کی اجازت کے بغیر اپنی بیٹی کو اس کی شادی میں دے دیا تھا ۔
سوال میں ذکر کرده و ضاحت کے مطابق اگر سائل کی والدہ مرحومہ نے اپنی بہوکی اجازت اور رضامندی کے بغیر مذکور سونا اپنی بیٹی کو دیدیا تھا ،تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں تھا ، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوئی ہے، البتہ اب انتقال کی صورت میں دیگر قرضوں کی طرح مرحومہ کے ترکہ میں سے مذکور سونا یا اس کی آج کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق اتنی رقم مذکور بہو کو ادا کرنا شرعاً لازم ہے، جبکہ سائل نے اپنی طرف سے اگر مذکور رقم بطور تبرع شامل کی تھی ، تو اب مذکور بہو سے اس کا مطالبہ کرنا سائل کے لئے شرعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في مسند أحمد : عن عمرو بن يثربي قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : ألا ولا يحل لامرئ من مال أخيه إلا بطيب نفس منه الخ ( ج ٣٤، ص 560 ، رقم : ۲۱۰۸۲، ط : مؤسسة الرسالة)-
و في الجوهرة النيرة على مختصر القدوري : لا يجوز للوكيل أن يتصرف إلا فيما جعل إليه الخ (كتاب آداب القاضي ، ج ٢ ، ص ٢٤٥ ، ط : المطبعة الخيرية )-
و في الدر المختار : الوكيل إذا خالف إن خلافا إلى خير في الجنس كبع بألف درهم فباعه بألف ومائة نفذ ولو بمائة دينار لا، ولو خير الخ ( باب الوكالة بالبيع والشراء، ج ۵ ، ص ۵۲1 ، ط : سعید)-
و في الفتاوى الهندية : الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن، كذا في البحر الرائق ( كتاب الوديعة ، الباب الأول في تفسير الإيداع والوديعة وركنها وشرائطها وحكمها ، ج 7 ، 241 ، ط : رشيدية)-
و في الموسوعة الفقهية الكويتية : إذا تعدى الوكيل فيما تحت يده من مال لمؤكله أو فرط في المحافظة عليه كان ضامنا لما يتلف منه الخ (ج ٤٥ ، ص 8٧ ط : وزارة الأوقاف)-
و فيها أيضا : إذا كانت الوكالة مطلقة عن القيود فإذا خالف كان متعديا و وجب الضمان الخ (ج ٤٥ ، ص 87 ، ط : وزارة الأوقاف)-