میرے ایک پڑوسی نے وہ گھر، جس کی دیوار میرے گھر کے ساتھ مشترک ہے، میری اطلاع اور اجازت کے بغیر کسی اور شخص کو فروخت کر دیا۔
جب مجھے اس معاملے کا علم ہوا تو میں نے علاقے کے سرکاری ذمہ دار کے پاس حقِ شفعہ کا دعویٰ پیش کیا اور اس مسئلے کا شرعی حل طلب کیا۔
سرکاری ذمہ دار نے ہماری قضیہ کو صلح کے لیے قبیلے کے معززین کے پاس بھیج دیا تاکہ وہ گھر کی قیمت مقرر کریں۔ میں نے بھی انہیں اختیار دیا کہ وہ گھر کی قیمت مقرر کریں، اس بنیاد پر کہ میں اسی مقررہ قیمت پر گھر خرید لوں گا۔ لیکن جب فیصلہ صادر ہوا تو مقرر کی گئی قیمت بہت زیادہ تھی، اس لیے میں نے اس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
اب میں چاہتا ہوں کہ اپنے معاملے کو سرکاری شرعی عدالت کے ذریعے حل کرواؤں۔
سوال:
کیا اوپر بیان کردہ صلحی فیصلہ میرے اس حق کو ختم کر دیتا ہے کہ میں شرعی عدالت میں حقِ شفعہ کا دعویٰ پیش کروں
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اگر اپنے ملکیتی گھر کے متصل گھر فروخت ہونے کا علم ہوتے ہی بروقت اپنے حقِ شفعہ کا مطالبہ کردیا تھا، تو شرعاً اس کا حقِ شفعہ ثابت ہوچکا تھا، اور شفیع کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ جائیداد اسی قیمت اور انہی شرائط پر حاصل کرے جن پر مشتری نے خریدی ہو۔ لہٰذا جبکہ اصل بیع کی قیمت معلوم تھی، تو ازسرِ نو دوسری قیمت مقرر کروانے کی حاجت نہ تھی، اس لیے سائل کا معززین سے نئی قیمت طے کروانا اور معززین کا اصل قیمت سے زیادہ قیمت مقرر کرنا، شفعہ کے اصل شرعی طریقۂ کار کے خلاف تھا۔ تاہم چونکہ سائل نے اس زائد مقرر کردہ قیمت کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی اپنے حقِ شفعہ سے دستبرداری اختیار کی، اس لیے محض اس کارروائی یا فیصلے کی بنا پر اس کا حقِ شفعہ ساقط نہیں ہوگا۔ لہٰذا سائل اب بھی سرکاری شرعی عدالت میں جاکر اصل خریداری کی قیمت پر اپنے حقِ شفعہ کا دعویٰ پیش کرسکتا ہے۔
کما فی الهداية شرح البداية: قال ومن اشترى دارا بعرض أخذها الشفيع بقيمته لأنه من ذوات القيم وإن اشتراها بمكيل أو موزون أخذها بمثله لأنهما من ذوات الأمثال وهذا لأن الشرع أثبت للشفيع ولاية التملك على المشتري بمثل ما تملكه فيراعى بالقدر الممكن كما في الإتلاف العددي المتقارب من ذوات الأمثال وإن باع عقارا بعقار أخذ الشفيع كل واحد منهما بقيمة الآخر لأنه بدله وهو من ذوات القيم فيأخذه بقيمته۔ (4/ 31)