السلام علیکم!
مؤدّبانہ گزارش ہے کہ اہلیانِ کو ہائی محلہ کے معززین کے پاس ایک فیصلہ آیا جو کہ مندرجہ ذیل ہے -
. فریقِ اول ارسلان ولد عقیل خان
.فریق دوئم حذیفہ ولد قادر خان
فریق اول ( ارسلان ) کے بقول فریق دوئم ( حذیفہ ) کے اسکی بیوی کے ساتھ نا جائز تعلقات تھے، لہذا فریق اول نے اپنی بیوی کو بمع دونوں بچوں کے میکے بھیج دیا اور فریق دوئم کو پیغام بھیجا کہ آپکی وجہ سے میرا گھر برباد ہو گیا ہے، لہذا مجھے اس کے عوض لڑکی دو یا مجھ سے دشمنی کیلئے تیار ہو جاؤ ،جس پر فریق دوئم نے علاقہ معززین سے رابطہ کیا اور بتایا کہ میں بے قصور ہوں، چونکہ فریقِ اول ارسلان میرا پڑوسی تھا اور اسکی مرضی سے اس کے گھر جاتا رہا ہوں اور میں یا میری جگہ پر میرے والد یا چچا حلف اٹھانے کیلئے تیار ہیں کہ فریقِ اول (ارسلان) کی بیوی کو اپنی بہن سمجھا اور وہ میری بہن تھی ، میری بہن ہے اور میری بہن رہے گی، اس کیلئے میرے دل میں کوئی خلل نہیں تھا اور نہ ہی ہوگا ، میں اللہ کو حاضر و ناظرجان کر حلفیہ کہتا ہوں کہ ارسلان کی بیوی میری بہن ہے، جب علاقہ معززین نے فریقِ اول ارسلان کو یہ مشورہ دیا اور اس کے خاندان کو بتایا کہ فریقِ دوئم مع والد اور اپنے چچا کے حلف اُٹھانے کیلئے تیار ہے، اگر وہ حلف اٹھاتے ہیں تو اس طرح لڑکی پر لگا داغ بھی ختم ہو جائے گا اور آپ لوگوں کا گھر آباد ہو جائے گا اور فریقِ دوئم کو کچھ مالی طور پر جرمانہ بھی کر دینگے اور اس کو تنبیہ کر دینگے کہ فریقِ دوئم، اس علاقے میں فضول آنا جانا نہ کرے، تو فریقِ اول ارسلان اور اسکے خاندان نے کہا کہ آج سے چھ یا سات ماہ پہلے چونکہ میں فریقِ دوئم کا پڑوسی تھا اور فریقِ دوئم کو میں نے خود اپنے گھر کے لیٹرین سے پکڑ کر اس کو اپنے گھر سے باہر کیا، اور اس کے والد کو شکایت کی تو اس کا والد میرے پاؤں پڑ گیا اور منت کرنے لگا کہ میرے بیٹے کی منگنی ہونے والی ہے، لہذا ہم پر پردہ رکھو اور میرے بیٹے کی غلطی کو معاف کر دو، کچھ عرصہ بعد میں نے وہاں سے نقل مکانی کر لی اور اپنی والدہ کے گھر کے پاس رہنے لگا، میری والدہ نے میری بیوی کے ساتھ موبائل پکڑا اور اس میں کچھ میسج تھے، جس میں لکھا تھا کہ آپ باہر آئیں، میں آپکو شاپنگ کرواتا ہوں اور اس پر جو نمبر تھا اس پر میری والدہ نے فون کیا تو معلوم ہوا ہے کہ وہ فریق دوئم حذیفہ اور ثناء اللہ ہے، تو اس پر میری والدہ ان کے گھر گئی اور کہا کہ آپ کو منع کیا تھا ، لیکن آپ باز نہیں آئے، لہذا اب ہمیں یقین ہو گیا کہ آپ کے اور میری بہو کے ناجائز تعلقات ہیں۔
جناب مفتی صاحب! علاقہ معززین کی رہنمائی فرمائیں کہ فریقِ اول کے خاندان والے بھی حلف اُٹھانے کیلئے تیار ہیں کہ ان کے نا جائز تعلقات ہیں ، لیکن ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں سوائے اس کے کہ اس کا شوہر کہتا ہے کہ میں نے اپنے گھر کی لیٹرین سے اسکو گھر سے باہر کیا اور ساتھ اس کے فریق اول( ارسلان ) کہتا ہے کہ محلہ کے ایک شخص نے کہا کہ میرے آپ کی بیوی سے تعلقات ہیں، جب علاقہ معززین نے کہا کہ وہ گواہی دے سکتا ہے تو اس پر فریق اول نے کہا کہ وہ سامنے آنے کیلئے راضی نہیں اور نہ ہی فریق اول نے ہمیں موبائل کے میسج دکھائے ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس موجود ہیں ۔ جناب، فریق دوئم بھی حلف اُٹھانے کیلئے تیار ہے بمع خاندان کہ وہ پاک ہے اور اس کے کوئی تعلقات نہیں ہیں فریقِ اول کی بیوی سے، لہٰذا آپ جناب سے استدعا ہے کہ اس مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں، اور شریعت کے مطابق فتوٰی جاری کیا جائے، اور بتایا جائے کہ علاقہ معززین کو کیا کرنا چاہیے۔ شکریہ
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق فریقِ دوم مسمیٰ حذیفہ ولد قادر خان کا فریقِ اول مسمٰی ارسلان ولد عقیل خان کے گھر آنا جانا اور شرعی پردے اور شرعی احکامات کو پامال کرتے ہوئے ارسلان کی بیوی سے ملنا جلنا اور بے تکلف ہوجانا قطعاً جائز نہیں تھا، جس پر اُسے توبہ و استغفار اور علاقہ معززین کی موجودگی میں ارسلان اور اس کے اہلِ خانہ سے ان کی ہتکِ عزت اور بدنامی پر معافی تلافی کر کے آئندہ کےلئے مذکور طرزِ عمل سے اجتناب کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا لازم اور ضروری ہے، جبکہ فریقِ اول مسمٰی ارسلان کے پاس اگر کوئی شرعی ثبوت موجود نہ ہو اور مسمٰی حذیفہ اپنی براءت اور صفائی پر حلف اٹھانے کے لئے تیار ہو تو محض شک اور حذیفہ کا اسکی اجازت سے اسکے گھر آنے جانے کی بنیاد پر حذیفہ پر اپنی بیوی کے ساتھ ناجائز تعلقات کا الزام لگانا اور اس کی وجہ سے فریقِ دوم سے لڑکی کا مطالبہ کرنا اور لڑکی نہ دینے کی صورت میں ان کے ساتھ دشمنی پر اتر آنا بھی درست نہیں، لہٰذا علاقہ معززین کو چاہیئے کہ حکمت و بصیرت اور افہام و تفہیم کے ساتھ فریقین کے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں، تاکہ ان کے درمیان پیدا ہونے والی عداوت و دشمنی کی روک تھام ہوسکے۔
کما فی صحیح البخاری : فالبَيِّنَةُ على المُدَّعي، واليمينُ على المُدَّعى عليه -عن ابن أبي مُلَيْكَةَ قال: كتبتُ إلى ابنِ عباس، فكتبَ إليَّ أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - قضى أنَّ اليمين على المُدَّعى عليه اھ ( رقم الحدیث: 1148 ج 2 ص 1147 )۔