میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ نمازِ تراویح سنتِ مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟ اگر کوئی شخص تراویح نہ پڑھے تو اس میں کوئی حرج ہے؟ اور کیا یہ محض نفلی نماز ہے؟ براہِ کرم حدیث سے مدلل جواب دیں۔
بیس رکعت تراویح سنتِ مؤکدہ ہے اور آپﷺ کے زمانہ سے تواتر کے ساتھ اس کا معمول چلا آرہا ہے ہے، لہٰذا اس کے پڑھنے کا اہتمام چاہیے۔
ففی مشكاة المصابيح: عن أبي ذر قال: صمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم رمضان فلم يقم بنا شيئا من الشهر حتى بقي سبع فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل (إلی قوله) فلما كانت الثالثة جمع أهله ونساءه والناس فقام بنا حتى خشينا أن يفوتنا الفلاح. اھ(1/ 406)
وفی الخانیة علی هامش الهندیة: التراویح سنة مؤکدة للرجال والنساء، تورثها الخلف عن السلف من لدن تاریخ رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم إلی یومنا اھ (۱/ ۲۳۲)
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0