تراویح میں قرآنِ پاک کے پاروں کی ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے؟ مثال کے طور پر اگر دو حافظ مل کر تراویح پڑھا رہے ہوں تو اگر پہلا حافظ پہلے پارے سے پڑھائے اور دوسرا حافظ گیارہویں پارے سے، تو کیا اس سے تراویح میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟
واضح ہو کہ تراویح میں ایک مرتبہ قرآن مجید کا ختم کرنا مسنون ہے ،اور قرآن مجید کو ترتیب سے پڑھنے پر ہی امت کا عمل چلتا آرہا ہے، غیر مرتب انداز میں تراویح میں قرآن مجید سننا امت کے متوارث عمل کے خلاف ہے لہذا حفاظ قرآن کو سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے بجائے ترتیب کے ساتھ تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرنا چاہئے۔
كما في بدئع الصنائع : ومنها أن يصلي كل ترويحة إمام واحد، وعليه عمل أهل الحرمين، وعمل السلف ولا يصلي الترويحة الواحدة إمامان؛ لأنه خلاف عمل السلف، ويكون تبديل الإمام بمنزلة الانتظار بين الترويحتين، وأنه غير مستحب(ج:1 ص :279 فصل فی سنن صلاۃ التراویح ناشر : سعید)
وفی حاشیۃ ابن العابدین : قوله بترك واجب) أي من واجبات الصلاة الأصلية لا كل واجب إذ لو ترك ترتيب السور لا يلزمه شيء مع كونه واجبا بحر.(ج:2 ص :80 باب سجودالسہو ناشر : سعید)
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0