میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ جیسا کہ آج کل ۵ روزہ ، ۶ روزہ اور ۱۰ روزہ تراویح جگہ جگہ ہو رہی ہیں تو ایسی تراویح پڑھنے سے تراویح کا حق ادا ہو جاتا ہے؟ اور اگر نہیں، پھر اس کے متعلق شریعت کی رو سے تفصیل بیان کریں، اللہ پاک آپ جزائے خیر دے!
تراویح کے سلسلہ میں تین امور سنت ہیں، اول: یہ ہے کہ بیس رکعات تراویح پڑھی جائیں ، دوسرا یہ ہے کہ روزانہ پڑھی جائیں ، اور تیسرا یہ کہ ان میں ایک مرتبہ پورا قرآن کریم ختم کیا جائے۔
اب اگر کسی حافظِ قرآن کےلۓ مسجد میں سنانے کا انتظام نہ ہو سکے یا دیگر وجوہات کی بناء پر وہ چند ایام میں قرآن کریم سنانا چاہتا ہو اور کچھ متعلقین بھی قیام اللیل کی غرض سے اس کے ساتھ شریکِ نماز ہو جائیں اور ختم قرآن کی سنت کو چند ایام میں پورا کر لیں اور اس کے بعد بھی تروایح نہ چھوڑیں، بلکہ پورا مہینہ پڑھتے رہیں، خواہ چھوٹی چھوٹی سورتوں کے ساتھ ہی کیوں نہ پڑھیں اور اس کے بعد اپنے مشاغل میں مصروف ہو جائیں، تو یہ بلاشبہ جائز ہے۔
اور اگر چند یوم میں ختمِ قرآن کے بعد تراویح ہی ترک کردیں تو یہ بلاشبہ ایک غلط حرکت اور ترکِ سنت ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0