مباحات

ایک ٹانگ کھڑی کرکے دوسرے اس پر رکھ کر چت لیٹنا

فتوی نمبر :
92268
| تاریخ :
2026-02-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

ایک ٹانگ کھڑی کرکے دوسرے اس پر رکھ کر چت لیٹنا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ،
حضرت! اگر کوئی شخص پائجامہ پہنا ہو اور وہ چِت لیٹا ہو اور ایک ٹانگ کھڑی کرکے دوسری ٹانگ اس پر رکھی ہے(ایک پیر کا گھٹنا کھڑا ہے اور صرف قدم زمین پر ہے اور دوسرا پیر اس گھٹنے پر رکھا ہو) اور کشفِ ستر کا بھی اندیشہ نہیں ہے تو کیا اس طرح لیٹنا درست ہے، اگر لنگی ہو تو کشف ستر کا اندیشہ ہوتا ہے لیکن پائجامہ میں تو کشف ستر کا بھی خدشہ نہیں ہے تو کیا اس طرح لیٹنا جائز ہے، سنا ہے کہ اس طرح لیٹنا تکبر کی علامت ہے، کیا یہ صحیح ہے، کیا اس طرح لیٹنا جائز ہے یا نہیں ؟ براہ کرم جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔
حضرت ہمارے گھر میں خیر و برکت کے لیے بھی دعا فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور ہیئت پر لیٹنے میں اگر ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہو تو اس کی شرعاً گنجائش ہے، تاہم اس طرح لیٹنا چونکہ خلاف ادب ہے اور اس میں اعضاء مستورہ کے خد و خال بھی واضح ہوتے ہیں ، لہذا اس سے اجتناب کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في مشكاة المصابيح: عن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ‌يرفع ‌الرجل ‌إحدى ‌رجليه ‌على ‌الأخرى وهو مستلق على ظهره. رواه مسلم(كتاب الاداب، باب الجلوس والنوم، ج: ٣، رقم الحديث: ٤٧٠٩، مط: المكتب الاسلامي)
وفي مرقاة المفاتيح: فيه تجريد أو تأكيد كما لا يخفى. قال المظهر: وجه الجمع بين حديث عباد بن تميم وجابر: إن وضع إحدى الرجلين على الأخرى قد يكون على نوعين أن تكون رجلاه ممدودتين إحداها فوق الأخرى، ولا بأس بهذا، فإنه لا ينكشف من العورة بهذه الهيئة، وأن يكون ناصبا ساق إحدى الرجلين ويضع الرجل الأخرى على الركبة المنصوبة، وعلى هذا فإن لم يكن انكشاف العورة بأن يكون عليه سراويل، أو يكون إزاره أو ذيله طويلين جاز وإلا فلا اهـ. وقال بعض علمائنا: وإنما أطلق النهي؛ لأن الغالب فيهم الاتزار.(كتاب الاداب، ج: ٨، ص: ٤٨٠، مط: حقانية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92268کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات