مباحات

آغا خان ہسپتال سے علاج کروانے کا حکم

فتوی نمبر :
67824
| تاریخ :
2023-09-20
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

آغا خان ہسپتال سے علاج کروانے کا حکم

اسلام علیکم !
آغاخان ہسپتال میں علاج کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور خصوصی طورپر ایک عالم کیلئے آغاخان ہسپتال سے علاج کرانا درست عمل ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی بھی ڈاکٹر سے علاج کرتے وقت شرعاً اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ بغرضِ علاج دی جانے والی دواء اور اس میں موجود اجزاء کا استعمال شرعاًجائز اور درست ہونا چاہیۓ ، بلکہ بوقتِ ضرورت کسی غیرمسلم ڈاکٹر سے علاج معالجہ کی بھی اجازت ہے ، جبکہ سوال میں مذکور ہسپتال میں علاج کرنے والے اکثر ڈاکٹر حضرات مسلمان ہیں ، اور وہاں علاج معالجہ کا انتظام معیاری بھی ہے ، اس لۓ کسی بھی عالم یا غیر عالم کے لۓ بوقتِ ضرورت وہاں سے علاج کرانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
تاہم اگر سائل کو اس سلسلہ میں کوئی اشکال ہو ، جس سے شرعی احکام کی خلاف ورزی معلوم ہورہی ہو ، تو اس کی پوری تفصیل اور وضاحت کرنے پر حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کیا جاسکتاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی البحر الرائق : و فيه إشارة إلى أن المريض يجوز له أن يستطب بالكافر فيما عدا إبطال العبادة اھ (فصل في العوارض، 303/2)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67824کی تصدیق کریں
0     1770
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات