السلام علیکم ! میرے کزن بینک کے کال سینٹر میں نوکری کرتے ہیں، اگر ان کی کمائی حرام ہے تو کیا ہم اسکی عیدی لے سکتے ہیں؟ اور اسکے گھر کھانا یا اسکی شادی کا کھانا کھاسکتے ہیں؟ شکریہ
واضح ہوکہ بینک کے کال سینٹر میں عموماً ملازمین کی ذمہ داری براہ راست سودی معاملات میں انویسٹمنٹ کرنے کے لئے لوگ فراہم کرنا نہیں ہوتا، بلکہ لوگوں کی شکایت اور مسائل سن کر ان کا حل بتلانا ان کی بنیادی ذمہ دار ی ہوتی ہے، ا سی ذمہ داری کی ادائیگی کی انہیں متعلقہ ادارہ کی طرف سے باقاعدہ تنخواہ ملتی ہے، لہذا اگر سائل کے کزن کی ذمہ داری بھی کال سینٹر میں جائز امور تک محدود ہو، براہ راست سودی معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کے کزن کے لئے یہ ملازمت کرنا اور اس کی اجرت لینا ہر دو امور شرعاً جائز اور درست ہے، اور ایسی صورت میں سائل کے لئے اپنے کزن سے عیدی لینا اور شادی بیاہ وغیرہ میں اس کے گھر کا کھانا کھانا سب امور شرعاً جائز ہوں گے۔
كما فی الدر المختار: وكل انواع الكسب فى الاباحة سواء على المذهب الصحيح كما في البزازية وغيرها اهـ ( ج ۲ ص ٤٦۲ سعید)۔
وفی فقہ البیوع: أما إذا كانت الوظيفة ليس لها علاقة مباشرة بالعمليات الربوية مثل: وظيفة الحارس أو سائق السيارة، أو العامل على الهاتف، أو الموظف المسؤول عن صيانة البناء، أو المعدات، أو الكهرباء، أو الموظف الذي يتمخض عمله في الخدمات المصرفية المباحة، مثل: تحويل المبالغ، والصرف العاجل للعملات، وإصدار الشيك المصرفي أو حفظ مستندات الشحن أو تحويلها من بلد إلى بلد، فلا يحرم قبولها إن لم يكن بنية الإعانة على العمليات المحرمة، وإن كان الاجتناب عنها أولى، ولا يُحكم في راتبه بالحرمة، لما ذكرنا من التفصيل في الإعانة والتسبّب، وفي كون مال البنك مختلطاً بالحلال والحرام، ويجوز التعامل مع مثل هؤلاء الموظفين هبة أو بيعاً أو شراء الخ (٥١٩- السابع: أن يؤجر المرء نفسه للبنك بأن يقبل فيه وظيفة ، ج ٢, ص ١٠٣٢, ط: مكتبة معارف القرآن كراچی)۔
وفی الہندیۃ: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام الخ (الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج5، ص 342، ط: ماجدیۃ)۔