السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ،
حضرت !میں انصاری ہوں ، میری ذات برادری انصاری ہے لیکن میرے پاس نسب نامہ نہیں ہے، اور میرے والد کو بھی معلوم نہیں ہے، نسب نامہ کا اور نہ ان کو نسب یاد ہے تو کیا میں خود کو انصاری کہہ سکتا ہوں اور خود کو انصاری بتلا سکتا ہوں اور اپنے نام کے آگے " انصاری" لگا سکتا ہوں ، یہ اس حدیث کے تو خلاف نہیں ہوگا کہ جس میں کہا گیا ہے کہ جس نے جان بوجھ کر اپنے والد کے علاوہ اپنی نسبت کی تو اس پر جنت حرام ہے ؟ چوں کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ ہمارا نسب انصارِ مدینہ سے ملتا ہے یا نہیں ۔ براہ کرم جواب مرحمت فرما کر ممنون فرمائیں ، نوازش ہوگی۔
صورت مسئولہ میں اگرچہ سائل کے پاس نسب نامہ موجود نہ ہو یا اسے اپنا سلسلہ نسب یاد نہ ہو ، لیکن اس کے باوجود اگر سائل کا خاندان سابقہ زمانے سے لوگوں کے درمیان بطور انصاری مشہور و معروف ہو، تو سائل کے لیے اپنے آپ کو انصاری کہلوانے ، یا اپنے نام کے ساتھ انصاری لکھنے کی گنجائش ہوگی ، اور یہ مذکور حدیث کے تحت بھی داخل نہ ہوگا ، ورنہ سائل کو اس سلسلہ میں احتیاط لازم ہے۔
كما في الهندية : في الفتاوى الصغرى الشهادة بالشهرة في النسب وغيره بطريقتين الحقيقة والحكمية فالحقيقة أن تشتهر وتسمع من قوم كثير لا يتصور تواطؤهم على الكذب ولا تشترط في هذه العدالة ولا لفظ الشهادة بل يشترط التواتر والحكمية أن يشهد عنده رجلان أو رجل وامرأتان عدول بلفظ الشهادة كذا في الخلاصة اھ(الباب الثاني في بيان تحمل الشهادة وحد ادائها،ج:٣،ص:٤٥٨،ناشر: ماجدية)
وفى رد المحتار : أما أصل النسب فمخصوص بالآباء،اھ(باب الوصية للاقارب وغيرهم،ج:٦،ص:٦٨٥،ناشر:ايچ ایم سعید)