محترم مفتیانِ کرام / دارالافتاء کی خدمت میں عرض ہے کہ:
میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں جہاں Provident Fund (PF) کی سہولت موجود ہے۔ ہر ماہ میری تنخواہ سے 3000 روپے PF کی مد میں کاٹے جاتے ہیں اور کمپنی اپنی طرف سے اتنی ہی رقم شامل کر کے کل 6000 روپے ماہانہ میرے PF اکاؤنٹ میں جمع کرتی ہے۔
مزید یہ کہ کمپنی اس جمع شدہ PF رقم کو کسی کاروبار یا سرمایہ کاری میں استعمال کرتی ہے (جس کی مکمل نوعیت مجھے معلوم نہیں) اور سال کے اختتام پر PF کی مجموعی رقم میں کچھ اضافہ ہو کر ہمارے اکاؤنٹ میں آ جاتی ہے، جو بظاہر سود / انٹرسٹ کی صورت میں ہوتا ہے۔
براہِ کرم شرعی مدلّل رہنمائی فرمائیں:
1) کیا اس PF اسکیم میں شرکت کرنا شرعاً جائز ہے؟
2) کمپنی کی طرف سے PF رقم پر دیا جانے والا اضافہ (انٹرسٹ) لینا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
3) اگر یہ اضافہ ناجائز ہو تو اس صورت میں ملازم کے لیے کیا شرعی لائحۂ عمل ہونا چاہیے؟
جزاکم اللہ خیراً في احسن الجزاء۔
پراویڈنٹ فنڈ کی دو قسمیں ہیں ۔ (۱) جبری (۲) اختیاری
جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے ، اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے، ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگر چہ وہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں ،لہذا ملازم کے لیے ان کو لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اس پر جور قم محکمہ بنام سود دےگا،تو اس میں چونکہ تشبہ بالربا کے ساتھ سود خوری کا ذریعہ بنا لینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے یا وصول کر کے بغیر نیت ثواب کسی مستحق زکوۃ کو صدقہ کر دیا جائے۔
كما البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله والأجرة لا تملك بالعقد) (الى قوله) (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري اھ (کتاب الإجارة:،ج:7،ص:300 ، دار الكتاب الإسلامي)
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0