جیلی کھانا جائز ہے یا نہیں جو کسٹرڈ میں کھائی جاتی ہے
واضح ہو کہ جیلی کی حلت وحرمت کا دارومدار اس کے ماخذ پر ہے، کہ اسے کن ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے؟ اگر جیلی کسی حلال جانور (جوشرعی طریقہ پر ذبح کیاگیاہو) کے اجزاء یا نباتات سے حاصل کیا گیا ہوتو وہ شرعا ًحلال اور اس کا استعمال جائز ہوگا، اور اگر اسے حرام ذرائع جیسے خنزیر،درندہ یا دیگرمردار جانوروں سے حاصل کیا گیا ہو، اور تبدیل ماہیت (استحالہ ) کے پروسس سے گزارکر اس میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی ہو، تو یہ شرعا حرام اور اس کا استعمال ناجائز ہوگا۔ اس لیے کھانے پینے کی جن اشیاء میں جیلیٹن کا استعمال عام ہو، ان اشیاء کے کھانے سے قبل اس بات کی تحقیق ضروری ہے، کہ اس میں استعمال شدہ جیلیٹن کا ماخذ کیا ہے؟ اور ان ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ کے پاس کسی مسلم ادارے” حلال فوڈ اتھارٹی“ کی جانب سے کوئی سرٹیفیکٹ بھی موجود ہے؟ جب تک اس کے حلال ہونے کا یقین اور اطمینان نہ ہوجائے، اس وقت تک ان اشیاء کے استعمال سے احتیاط ضروری ہے۔
کمافی فقہ البیوع: ومن المناسب هنا ذكر حكم الهلام أو الجيلاتين، وهي مادة سائلة تستعمل في الأدوية وبعض الأغذية، وتتخذ من جلود الحيوانات وعظامها، فإن كانت تلك الحيوانات مأكولة اللحم شرعاً، فلا إشكال فيها، ولكن إن اتخذ الهلام من البقر بدون ذكاة شرعية، كما هو الحال فى المركبات الدوائية والغذائية التي تستورد من بلاد غير المسلمين، فإن كان الجيلاتين أخذ من عظامها، فإنه طاهر عند الحنفية، لأن العظام مما لاتحلہ الحیوۃ، وما لاتحلہ من أجزاء المیتۃ طاھر، لذا جاز بیعہ وشرائہ علی مذھب الحنفیۃ، (إلی قولہ) وبما أن عظم حيوان غير مذكى طاهر، وأن جلده يطهر بالدباغ، فإن الجيلاتين المتخذ منهما طاهر، ويجوز استعماله في غير الأكل باتفاق الحنفية، أما استعماله في الأكل، فالصحيح المفتى به عند الحنفية أنه لا يجوز، ولكن هناك قول عند الحنية والشافعية في جواز أكله، ويسوع العمل به للتداوى بالكيبسولات المتحدة من الجيلاتين، بشرط أن لا تكون متخذة من جلد الخنزير أو عظمه، أما في غير التداوى، فينبغى الاجتناب من أكله، ما لم تثبت استحالتها، أما البيع والشراق، فيجوز في غير المتخذ من الخنزير، لأنه طاهر حسبما ذكرناه، والانتفاع به ممکن بطریق مشروع، (المبحث الثالث فی احکام المبیع والثمن، الشرط الثانی کون المبیع متقوماً، حکم الھلام، ج 1، ص 305-307، ط: مکتبۃ معارف القرآن)-
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0