مخاصمات

جرگے کا عورت کے حق میں شوہر کے خلاف یکطرفہ پابندیا ں عائد کرنا

فتوی نمبر :
84346
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مخاصمات / مخاصمات

جرگے کا عورت کے حق میں شوہر کے خلاف یکطرفہ پابندیا ں عائد کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بعد از سلاِم مسنون درجِ ذیل مسائل کا قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں:
عرض یہ ہے کہ میری بیوی شرعی احکام کی کھلے عام خلاف ورزی کرتی ہے ، پردہ نہیں کرتی، تنگ لباس پہنتی ہے، بغیر اجازت کے بازار جاتی ہے ، سرخی پاؤڈر لگا کر باہر نکلتی ہےوغیرہ وغیرہ، متعدد مرتبہ پیار و محبت سے سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن پھر بھی نہیں مانتی ہے۔
اسی بنا پر میرے اور اس کےدر میان اختلاف بڑھتے بڑھتے عروج پر پہنچ گئے، بالآخر براوری والوں نے جرگہ بلایا، جس میں مجھ سے اور میرے والد صاحب سے جرگے والوں نے دباؤ ڈال کر د ستخط لیے کہ آپ لوگوں کو جرگے کا ہر فیصلہ ماننا پڑے گا ، ہم نے کہا کہ اگر فیصلہ دونوں کے مفاد میں ہوا تو مانیں گے،جرگے والوں نے ہماری عدم موجودگی میں جو فیصلہ لکھا ا س میں لڑکے پر مندرجہ ذیل پابندیاں لگائی ہیں۔
(1): چھ ماہ کے اندر مہر ادا کرنا ہوگا (۲) :ماہانہ دو ہزار روپے خرچ دینا ہوگا ،(۳): لڑکا اپنی بیوی سے معافی مانگے کہ میں نے زیادتی کی ہے۔ (۴) :طلاق کی صورت میں پانچ لاکھ روپے جرمانہ (۵): لڑکی نے دوسری شادی کی بعد الطلاق , تو پورا خرچ شوہر ادا کرے گا۔ (۶): لڑکی گھر کا کام اپنی مرضی سے کرے گی ۔(۷):اگر علیحدہ رہنا چاہے تو علیحدہ رکھنے کا پابند ہوگا یعنی اس کے ماں باپ کی خدمت کی پابند نہ ہو گی ۔
جرگے والوں نے یہ فیصلہ لکھ کر ہمیں پڑھنے کی اجازت نہیں دی ، اور ہم سے دھوکے میں اور اندھیرے میں رکھ کر دستخط لے لیے ، معلوم ہونے کے بعد ہم نے اس کا ر دکر دیا کہ یہ یکطرفہ کاروائی ہے، اس پر جرگہ والوں نے کہا کہ یہ محض کاغذی کاروائی ہے ۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ (1) میں اپنی بیوی کو شرعی احکام پر عمل کرانے کا مجاز ہوں یا کہ نہیں ؟ بیوی کے انکا ر کی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟ (۲) دوسری بات یہ دریافت کرنی ہے کہ جو پابندیاں میرے اوپر لگائی گئی ہیں۔ اور ہمارے علم میں لانے کے بغیر ہم سے دستخط کرائے گئے، یہ پابندیاں شرعی نقطہ نظر سے مجھ پر عائد ہوں گی یا کہ نہیں ؟ اگر ہوں گی تو کون کون سی شرائط پر عمل ضروری ہوگا ؟ از راهِ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہت زیادہ جزائے خیر عطافرمائے۔ آمین ثم آمین !
نوٹ: واضح رہے کہ جرگہ والوں کا فیصلہ سادہ کاغذ پر لکھا ہوا ہے۔ اسٹام فارم یا کورٹ کے فارم پر نہیں ہے۔ والسلام!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جب شوہر اور اس کے والد نے فریق ثانی ہونے کی حیثیت سے جرگے والوں کو یک طرفہ کاروائی اور فیصلہ کرنے کے بجائے فریقین کے مفاد میں فیصلہ کرنے کی شرط کے ساتھ اختیار دیا تھا، تو ان کا فیصلہ اسی شرط کے ساتھ معلق تھا ،پھر جب جرگے والوں نے محض لڑکی کے مفاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ دیدیا ،جیسا کہ سوال میں مذکور شرائط سے بخوبی معلوم ہو رہا ہے،تو یکطرفہ فیصلہ ہونے کی وجہ سے اس کا ماننا فریق ثانی پر لازم نہیں، جبکہ معلوم ہونے پر انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے صراحتاً انکا ر بھی کر دیا ہے۔
تاہم جرگہ والوں پر لازم ہے کہ آئندہ کے لئے اس قسم کے یکطرفہ اور ناجائز فیصلے کرنے کے بجائے فریقین کے حق میں اور جائز فیصلے کیا کریں اور ثانیاً یہ لازم ہے کہ جرگہ کے تمام ارکان مذکور ناجائز فیصلہ کو منسوخ قرار دے کر فریق ثانی کو اس سے آزادی دے کر فریقین کی باہمی اجازت ومرضی سے فریقین کے حق میں فیصلہ دیں۔ ورنہ فریقِ ثانی مذکور فیصلہ پر عمل درآمد کا شرعاً پابند نہیں۔ البتہ گھر بسانے کے لئے ہر ممکن اور جائز طریقہ اپنانا ان پر لازم ہے، جس کے پاسداری ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (هو) لغة: جعل الحكم فيما لك لغيرك. وعرفا: (تولية الخصمين حاكما يحكم بينهما، وركنه لفظه الدال عليه مع قبول الآخر) ذلك اھ (5/ 428)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله مع قبول الآخر) أي المحكم بالفتح فلو لم يقبل لا يجوز حكمه إلا بتجديد التحكيم بحر عن المحيط. (5/ 428)۔
و في الدر المختار: (ويعزر المولى عبده والزوج زوجته) ولو صغيرة لما سيجيء (على تركها الزينة) الشرعية مع قدرتها عليها (و) تركها (غسل الجنابة، و) على (الخروج من المنزل) لو بغير حق (وترك الإجابة إلى الفراش) لو طاهرة من نحو حيض. ويلحق بذلك ما لو ضربت ولدها الصغير عند بكائه أو ضربت جاريته غيرة ولا تتعظ بوعظه، أو شتمته ولو بنحو يا حمار، أو ادعت عليه، أو مزقت ثيابه، أو كلمته ليسمعها أجنبي، أو كشفت وجهها لغير محرم، أو كلمته أو شتمته أو أعطت ما لم تجر العادة به بلا إذنه اھ (4/ 77)۔
و في الدر المختار: ويمنعها من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة، وإن أذن كانا عاصيين (3/ 603)
و فیه أیضا: وحقه عليها أن تطيعه في كل مباح يأمرها به اھ (3/ 208)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد الوحید جمال عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84346کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فریقین میں پیسوں کے متعلق کا قرض اور ہدیہ میں اختلاف کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 3
  • سنی کے نام میں ’’شاہ‘‘ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ ’’شیعہ‘‘ جیسا سلوک کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • قرآن پر جھوٹا حلف اٹھانے والے کا حکم-جھوٹی قسم سے کسی چیز کے مالک ہونے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • باپ کی زندگی میں, بیٹے کا اپنی کمائی سے خریدے ہوئےگھر میں وراثت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین اور گھر کی خریدی کے تین مہینے بعد شفعہ کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • گاڑی گم ہونے پر ، ڈرائیور سے ،زمانۂ گمشدگی کےمتوقع منافع اور گاڑی تلاش کرنے کے اخراجات لینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بیٹا اگر ذاتی کمائی سے مکان بنائے تو اس میں اس کے والد اور بھائیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بلا سببِ شرعی بھائی کی جائیداد میں حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اولاد کی شہادت کی کیا حیثیت ہے ؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • ساس کا اپنی بہو کا سونا اس کی اجازت کے بغیر بیٹی کو دیدینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • حقوق ادا نہ کرنے والے اور طلاق نہ دینے والے شوہر سے خلاصی کا طریقہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • شوہر کی جانب سے اپنی بیوی پر کسی سے ناجائز تعلقات کے دعوے میں جرگہ کی رہنمائی

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • دوسرے کی زمین غصب کرنے کا حکم-اور اس کو اسی وجہ سے قتل کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگے کا عورت کے حق میں شوہر کے خلاف یکطرفہ پابندیا ں عائد کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   مخاصمات 0
  • مشترکہ گھر کی دیوار میں دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین پندرہ سال سے زائد ملکیت میں ہو اور بلا مانع شرع کوئی مدعی سامنے نہ آئے

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • سرکاری انتقال کے بغیر خریدی گئی زمین کی ملکیت کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگہ کا فیصلہ نہ ماننے سے شفعہ کاحق باقی رہے گا یا نہیں؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
Related Topics متعلقه موضوعات