موجودہ دور میں دو طرح سے کریڈٹ کارڈ حاصل ہوتے ہیں ایک تو اس طرح سے حاصل ہوتا ہے کہ آدمی مالدار ہوتا ہے بینک والے خود اس کو بغیر فکس ڈپازٹ کے کریڈٹ کارڈ آفر کرتے ہیں دوسرا طریقہ کارڈ حاصل کرنے کا یہ ہوتا ہے کہ کسی کو کریڈٹ کی ضرورت یا خواہش ہوتی ہے وہ بینک میں فکس ڈپازٹ کرکے secure credit card لیتا ہے جبکہ اس کا ارادہ فکس ڈپازٹ کا نفع کھانا نہیں ہوتا ہے اور وہ سود کھاتا بھی نہیں ہے ، Secure Credit card Against FD لینا کیسا ہوگا ،براہ کرم جواب عنایت فرمائیں
اولا تو کریڈٹ کارڈ کا حصول اور استعمال ہی قابل اشکال ہے کیونکہ کریڈٹ کارڈ کے اجراء کے وقت چونکہ مقررہ وقت پر قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں سود لاگو ہونے کی شرط لگائی جاتی ہے اور کارڈ ہولڈر ان شرائط کو قبول کرکے معاہدہ پر دستخط کرتا ہے جو ایک غیر شرعی معاہدہ ہے اس لئے عام حالات میں بروقت ادائیگی کےنیت کے ساتھ بھی کریڈٹ کارڈ کا حصول سودی معاہدہ کا حصہ بننے کی وجہ سے درست نہیں ، البتہ اگر کسی جگہ کریڈٹ کارڈ کے بغیر خریداری وغیرہ نا ہوسکتی ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں کریڈٹ کارڈ کا لینا اور اس کا استعمال اس شرط کے ساتھ جائز ہوگا کہ مقررہ وقت کے اندر ہی قرض کی ادائیگی کا پورا اہتمام کیا جائے ، تاکہ عملاً سودی رقم دینا نہ پڑے ۔
جبکہ کریڈٹ کارڈ کے حصول کےلئے بینکوں میں جو رقم بطور سکیورٹی جمع کرائی جاتی ہے، اگریہ رقم غیرسودی طور پر جمع کرائی جاتی ہو تو یہ ٹھیک ہوگا، ورنہ سکیورٹی کےلئے فیکس ڈیپازٹ کے طور پر رقم جمع کرکے کریڈٹ کارڈ کا حصول شرعاجائز نہ ہوگا، اگرچہ سکیورٹی کے طور پر جمع کردہ رقم پر سود کا حصول مقصود نہ ہو، لہذااس طرح کےلین دین سے اجتناب لازم ہے۔
كما في الدر المختار : وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن ( فصل في القرض، ج 5، ص 166، ط : سعيد)-
و في رد المحتار : تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (إلى قوله) وتعقبه الحموي بأن ما كان ربا لا يظهر فيه فرق بين الديانة والقضاء على أنه لا حاجة إلى التوفيق بعد الفتوى على ما تقدم أي من أنه يباح ( مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج 5، ص 166، ط : سعيد)-
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرة : وهناك نوع آخر من الجوائز، تعطى على استخدام بطاقات الائتمان والعادة في هذه البطاقات أن حاملها يحصل على نقاط عند كل استخدام له لتلك البطاقة عند شراء بضاعة أو خدمة، وإن هذه النقاط تدخر في حسابه عند مصدر البطاقة؛ فكلما بلغت النقاط حداً معيناً، استحق حامل البطاقةجائزة من قبل المصدر. وحكم هذه الجوائز موقوف على معرفة علاقة مصدر البطاقة مع حاملها (إلى قوله) وعلى هذا، فإن مصدر البطاقة لا يعدو تجاه حامل البطاقة من أن يكون محتالاً عليه أولاً ، ثم مقرضاً له عندما يسدد دينه إلى التاجر، فالجائزة التي يقدمها مصدر البطاقة إلى حاملها هي جائزة من قبل المقرض إلى المستقرض، فهو تبرع محض، لا قمار فيه ولا رباً : أما القمار، فلأن حامل البطاقة لم يعلق شيئاً من ماله على خطر . وأما الربا، فإنه يتحقق بإعطاء زيادة من المستقرض إلى المقرض، وليس في العكس، فلو أعطى مقرض شيئاً للمستقرض، علاوة على القرض، فإنه تبرع محض لا يلزم منه الربا . ( الجوائز على بطاقات الائتمان ، ج 2، ص 164، ط : مكتبة دار العبوم ، كراتشي)-
کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور اس پر ملنے والے پوائنٹس و ڈسکاؤنٹ وغیرہ استعمال کرنےکا حکم
یونیکوڈ کریڈٹ کارڈ 0