السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ کہ کیا کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا شرعی لحاظ سے جائز ہے؟ یہاں امریکا کے اکثر ملکوں میں یہ ہوتا ہےکہ کریڈٹ کارڈ کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ بنک ہمیں آسانی سے دے دیتی ہے، لیکن استعمال کرنے کے بعد اس کی واپسی کہ دو طریقے ہیں ۔ (۱) جو آپ نے استعمال کیا ہے، مثال کے طور پر میں نے 1000 ہزار ڈالر استعمال کیا ہے، تو اگلے مہینے مجھے 15 تاریخ تک وہی 1000 واپس کرنا ہے۔ (۲) دوسرا یہ کہ میں اس 1000 ہزار ڈالر کی قسط بنوالوں اور بارہ یا چوبیس مہینوں میں ادا کرتا رہوں ، لیکن اس صورت میں اب یہ 1000 ہزار ڈالر نہیں ہونگے، بلکہ یہ 1200 یا 1300 ہو جاتے ہیں، قسط کے صورت میں۔
نوٹ : کبھی کبھی پیسے اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ ہمارے ساتھی پہلے والے طریقے میں ادا نہیں کر سکتے، ان کو دوسرے طریقے کی طرف جانا پڑتا ہے۔ اس میں آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا کرنا چاہیئے ؟ جزاک اللہ
واضح ہو کہ کریڈٹ کارڈ کا استعمال عام حالات میں اور بلا ضرورت شدیدہ جائز نہیں، کیونکہ کریڈٹ کارڈ لیتے وقت اس بات پر آمادگی کا اظہار کرتا ہے کہ وہ لیٹ پیمنٹ کی صورت میں سود ادا کریگا اور اس معاہدہ پر وہ دستخط بھی کرتا ہے اس لئے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر ناگزیر حالات میں کریڈٹ کارڈ حاصل کر لیا جائے تو لازم ہے کہ بر وقت ادائیگی کرے تاکہ عملاً سود میں ملوث ہونے سے بچا جا سکے ، لہذا سائل اور اس کے دوست اگر ضرورت شدیدہ کی بنا پر کریڈٹ کارڈ حاصل کر لیتے ہوں، تو مقررہ وقت ( مثلا وہاں امریکہ میں پندرہ تاریخ)پر بلوں کی ادائیگی لازم ہے، اس بل کی قسطیں کروا کر اس پر سود دینا جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما في فقه البيوع: فهل يجوز للمسلم ان يأخذ البطاقة و يوقع على العقد الذي فيه هذا الشرط بنية انه سيدفع الفواتير في حينها قبل ان تفرض عليها زيادة ربوية ولا يطبق هذا الشرط فعلا ؟ فيه خلاف للعلماء المعاصرين، فقال بعضهم ان مجرد التوقيع على هذا الشرط دخول في عقد محرم ، فلا يجوز ، ولو كان نية عدم تطبيقه فى الواقع وقال آخرون ان حامل البطاقة ان كان على يقين بان هذا الشرط لا يطبق فعلاً لغرم اداء المبلغ الفاتورة خلال الفترة المحددة، فانه، يحوز اھ (۱/ ۴۶۲)
کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور اس پر ملنے والے پوائنٹس و ڈسکاؤنٹ وغیرہ استعمال کرنےکا حکم
یونیکوڈ کریڈٹ کارڈ 0