کریڈٹ کارڈ

کریڈٹ کارڈ کے استعمال کا حکم

فتوی نمبر :
94710
| تاریخ :
2026-04-28
جدید فقہی مسائل / بینکاری / کریڈٹ کارڈ

کریڈٹ کارڈ کے استعمال کا حکم

السلام علیکم ! میرا ایک سوال ہے کریڈٹ کارڈ کے حوالے سے ، کہ کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟ اگر ہم بینک کی رقم وقت سے پہلے جمع کروادیتے ہیں تو ہمیں اضافی نہیں دینا ہوتا ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کریڈٹ کارڈ کے اجراء کے وقت چونکہ مقررہ وقت پر قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں سود لاگو ہونے کی شرط لگائی جاتی ہے اور کارڈ ہولڈر ان شرائط کو قبول کرکے معاہدہ پر دستخط کرتا ہے جو ایک غیر شرعی معاہدہ ہے اس لئے عام حالات میں بروقت ادائیگی کے ساتھ بھی کریڈٹ کارڈ کا استعمال شرعاً درست نہیں ، جس سے احتراز ضروری ہے ، البتہ اگر کسی جگہ کریڈٹ کارڈ کے بغیر خریداری وغیرہ نا ہوسکتی ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں کریڈٹ کارڈ کا لینا اور اس کا استعمال اس شرط کے ساتھ جائز ہوگا کہ مقررہ وقت کے اندر ہی قرض کی ادائیگی کا پورا اہتمام کیا جائے ، تاکہ عملاً سودی رقم دینا نہ پڑے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار : وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن ( فصل في القرض، ج 5، ص 166، ط : سعيد)-
و في رد المحتار : تحت (قوله ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا ‌حرام) ‌أي ‌إذا ‌كان ‌مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (إلى قوله) وتعقبه الحموي بأن ما كان ربا لا يظهر فيه فرق بين الديانة والقضاء على أنه لا حاجة إلى التوفيق بعد الفتوى على ما تقدم أي من أنه يباح ( مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج 5، ص 166، ط : سعيد)-
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرة : وهناك نوع آخر من الجوائز، تعطى على استخدام بطاقات الائتمان والعادة في هذه البطاقات أن حاملها يحصل على نقاط عند كل استخدام له لتلك البطاقة عند شراء بضاعة أو خدمة، وإن هذه النقاط تدخر في حسابه عند مصدر البطاقة؛ فكلما بلغت النقاط حداً معيناً، استحق حامل البطاقةجائزة من قبل المصدر. وحكم هذه الجوائز موقوف على معرفة علاقة مصدر البطاقة مع حاملها (إلى قوله) وعلى هذا، فإن مصدر البطاقة لا يعدو تجاه حامل البطاقة من أن يكون محتالاً عليه أولاً ، ثم مقرضاً له عندما يسدد دينه إلى التاجر، فالجائزة التي يقدمها مصدر البطاقة إلى حاملها هي جائزة من قبل المقرض إلى المستقرض، فهو تبرع محض، لا قمار فيه ولا رباً : أما القمار، فلأن حامل البطاقة لم يعلق شيئاً من ماله على خطر . وأما الربا، فإنه يتحقق بإعطاء زيادة من المستقرض إلى المقرض، وليس في العكس، فلو أعطى مقرض شيئاً للمستقرض، علاوة على القرض، فإنه تبرع محض لا يلزم منه الربا . ( الجوائز على بطاقات الائتمان ، ج 2، ص 164، ط : مكتبة دار العبوم ، كراتشي)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94710کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کریڈٹ کارڈ کے استعمال اور اس سے نقد کیش حاصل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کریڈٹ کارڈ 1
  • Ruling on Faysal Banks Noor Credit Card

    یونیکوڈ   انگلش   کریڈٹ کارڈ 0
  • ضرورت کے وقت کریڈٹ کارڈ کے استعما ل کا حکم

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
  • قربانی کے جانور کر یڈٹ کارڈ پر خریدنا

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
  • کریڈٹ کارڈ کا استعمال اوراس کے ذریعہ خرید و فروخت کرنا

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
  • کریڈٹ کارڈ کا خریدنا اور اس کے استعمال کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
  • کریڈٹ کارڈ کے استعمال کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
  • کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور اس پر ملنے والے پوائنٹس و ڈسکاؤنٹ وغیرہ استعمال کرنےکا حکم

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
  • کریڈیٹ کارڈ کے استعمال سے مختلف جگہوں پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
  • کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ اشیاء و اموال کی خریداری کاحکم

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
  • کریڈٹ کارڈ کی حقیقت ، اور اس کے استعمال کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
  • پاکستان کے بینکوں میں کونسے بینک کا کریڈیٹ کارڈ اسلامی ہے؟

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
  • بینک کا لیٹر آف کریڈٹ بنانے پر اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
  • کریڈٹ کارڈ کے استعمال کا حکم

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
  • کریڈٹ کارڈکے ذریعے قربانی کے جانور خریدنے کاحکم

    یونیکوڈ   انگلش   کریڈٹ کارڈ 0
  • کریڈٹ کارڈ حاصل کرکے اس کے ذریعہ خرید وفروخت کرنا

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 1
  • نیشنل سیونگ پاکستان کی طرف سے متعارف کردہ بہبود سرٹیفیکیٹ کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   کریڈٹ کارڈ 0
  • کریڈٹ کارڈ کے استعمال کا حکم

    یونیکوڈ   کریڈٹ کارڈ 0
Related Topics متعلقه موضوعات