کیا پرائز بانڈز کی خرید وفروخت اسلام میں جائز ہے؟
(۲): بینک سے نئے نوٹ لے کر خرید وفروخت نوٹوں کی جائز ہے؟
(۳) کیا شیعہ عام فرقہ کافر ہیں کیا کچھ؟ کون سے فرقے کافر نہیں ہیں؟ علامہ ساجد نقوی کا کس فرقے سے تعلق ہے؟ کیا اس پر کفر کا فتویٰ ہے یا نہیں؟
پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہئیے کہ انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوتی، جبکہ اس اسکیم کے تحت جو رقم دیجاتی ہے، درحقیقت وہ رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے ،اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے، وہ سود ہوتا ہے،اور یہی حکم بینک سے نئے نوٹ لے کر کمی بیشی کا بھی ہے ۔
(۳): روافض اور شیعوں کے کئی فرقے ہیں، جو مختلف العقائد والخیال ہیں ،اور اسی وجہ سے متقدمین و متأخرین علماء ان کے بارے میں مختلف رہے ہیں ، بعض نے مطلقاً تکفیر کی ہے، جبکہ بعض نے اس میں احتیاط کی ہے، اور بعض نے اس میں یہ تفصیل بیان کی ہے کہ جو شیعہ جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے الٰہ ہونے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا جاننے،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کے انکار کرنے, موجودہ قرآن کریم میں تحریف کے قائل ہونے کا عقیدہ رکھتا ہو یا اس قسم کا کوئی اور صریح کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو وہ بلا شبہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، جبکہ محض تبرا بازی کرنے والے مسلمان ہیں، مگر فاسق و فاجر ہیں، اور ساجد نقوی سے متعلق ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کس فرقہ سے متعلق ہے۔ سائل متعلقہ شخص سے اس کے اعتقادات ونظریات معلوم کر کے اس کے موافق حکم بھی لگا سکتا ہے۔
کمافي مشكاة المصابيح: وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل يدا بيد فمن زاد أو استزاد فقد أربى الآخذ والمعطي فيه سواء» . رواه مسلم (2/ 855)۔
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)۔
انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ پرائز بانڈ 0