مفتی صاحب! (۱) میں یہ جانا چاہتا ہوں کہ اقل مدت حیض کتنی ہے؟ (۲) مجھے پرائز بانڈ کی حقیقت کے بارے میں بتائیں۔
1: حیض کی کم از کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔
۲: پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ انعامی بانڈ پرائز بانڈز میں کسی چیز کی خرید فروخت نہیں ہوتی ،بلکہ اس کے تحت جو رقم دی جاتی ہے ،درحقیقت حکومت پر قرض ہوتی ہے اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے۔ اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہے کہ حکومت ’’پرائز بانڈز‘‘ والے ہر شخص سے اس کے دیئے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی، لیکن پرائز بانڈز حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی بہر حال یہ بات طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کریگی ، اگر وہ ایسا نہ کرے تو ’’ پرائز بانڈز‘‘ رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا نہ صرف مطالبہ کر سکتا ہے ، بلکہ بذریعہ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتا ہے ۔
چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے ’’ پرائز بانڈز‘‘ کی حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈز کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کے لیے کوئی مقررہ مدت نہیں ہوتی ، جب چاہیں وصول کر سکتے ہیں۔ اب یہ بھی سمجھ لیجیئے کہ بانڈز رکھنے والوں کو بصورت انعام جو کچھ ملتا ہے، وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے۔ جو بحیثیت مجموعی جملہ انعامی بانڈز رکھنے والوں سے مشروط ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث وفقہ کی روشنی میں ناجائز اور سود ہے ۔ اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا نا جائز اور حرام ہے ۔ جتنے روپے کا پرائز بانڈ ہے اسی قدر رقم واپس لے سکتے ہیں، زائد نہیں ۔ اگر کسی نے غلطی سے پرائز بانڈز پر ملنے والی رقم حاصل کرلی ہو، تو چونکہ وہ سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے (اور مال حرام کا حکم یہ ہے کہ جب اس کا مالک معلوم ہو تو اسے اصل مالک تک پہنچانا ضروری ہے، اگر اصل مالک معلوم نہ ہو یا اس تک پہنچانا متعذر ہو تو اسے مالک کی طرف سے ’’ بغیر بتائے‘‘ بلانیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے) لہذا وہ رقم بلا نیت ثواب صدقہ کر دی جائے ۔
انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ پرائز بانڈ 0