پرائز بانڈ

پرائز بانڈ زکا خریدنا حلال ہے یا حرام ؟

فتوی نمبر :
23
| تاریخ :
2008-09-06
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / پرائز بانڈ

پرائز بانڈ زکا خریدنا حلال ہے یا حرام ؟

پرائز بانڈ کا خریدنا حلال ہے یا حرام ؟ مجھے تفصیل سے بتائیں

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ انعامی بانڈز (پرائز بانڈز ) کی اسکیم میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوتی بلکہ اس اسکیم کے تحت جو رقم دیجاتی ہے در حقیقت حکومت پر قرض ہوتی ہے۔ اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے اور اس طریقہ کار کی مکمل تفصیل یہ ہیکہ حکومت ہر انعامی بانڈ والے شخص سے اس کے دیے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی لیکن انعامی بانڈ حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی یہ بات بہر حال طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کرے گی اور ایسا نہ کرے تو انعامی بانڈ رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے بلکہ وہ بذریعۂ عدالت بھی حکومت کو انعام تقسیم کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ۔ چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے انعامی بانڈز کی حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈز کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کیلئے کوئی مدت مقرر نہیں جب چاہے لے سکتے ہیں
اب یہ بھی سمجھ لیجئے کہ بانڈر رکھنے والوں کو بصورت انعام جو کچھ ملتا ہے وہ اسی قرض کی بنا پر ملتا ہے جو بحیثیت مجموعی جملہ انعامی بانڈز رکھنے والوں سے مشروط ہے۔ اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث و فقہ کی روشنی میں بلا شبہ نا جائز اور سودہے اور اسکو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا نا جائز اور حرام ہے -
جتنے روپے کا انعامی بانڈ ہے اسی قدر رقم واپس لے سکتے ہیں ، زائد نہیں اور اگر کسی نے غلطی سے انعامی بانڈ پر ملنے والی رقم حاصل کر لی ہو تو جتنی رقم انعام کی تھی اتنی رقم کے بانڈز لیکر انہیں جلا کر یا پھاڑ کر ضائع کر دے تاکہ حکومت کو سود کی رقم واپس پہنچ جائے کیونکہ اس رقم کا اصل حکم یہی ہیکہ جس سے لی ہے اس کو واپس کر دے اور جب اصل کو لوٹانا مشکل ہو تو بلانیت ثواب کسی مستحق زکوۃ کو مالک و قابض بنا کر دیدے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي الدر : وفى الاشباه كل قرض جر نفعاً حرام فكره للمر تحن سکنی المرهونة باذن الراهن الخ
وفي الرد : اذا كان مشروطا كما علم مما نقله من البحر، ومن الخلاصة وفي الذخيرة وان لم يكن النفع مشروطاً فى القرض فعلی قول الکرخی لاباس به (ص: 166، ج: 5)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد نعیم اسلم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 23کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • پرائز بونڈ پر سود نہ ہونے کی تصریح کے باوجود سود کیسے؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ پر ملنے والے انعام کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • "صکوک مضاربہ بانڈز" میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ کا حکم-سو روپے کے نئے نوٹ کے بدلے 125 روپے لینا

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • کیا پرائز بانڈ میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ زکا خریدنا حلال ہے یا حرام ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم سے ملنے والے پیسے کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • بیرون ممالک میں انعامی بانڈز کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • ہانعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ سے رقم خریدنا یا جیتنا جائز ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم اور اس سے ملنے والے انعام کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پریمیم بانڈز کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز خرید نے کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   پرائز بانڈ 1
  • پرائز بانڈ اور اس پر ملنے والی انعامی رقم کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   انگلش   پرائز بانڈ 0
Related Topics متعلقه موضوعات