پرائز بانڈ

پرائز بانڈاور قومی بچت سیونگ اسکیم کا حکم

فتوی نمبر :
34117
| تاریخ :
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / پرائز بانڈ

پرائز بانڈاور قومی بچت سیونگ اسکیم کا حکم

السلام علیکم!
سر پرائز بانڈ کا خریدنا اور اس کی انعام کی رقم کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ حرام ہے یا حلال،
دوسری چیز مرکزی قومی بچت کی سیونگ سکیم حاصل کرنا شرعی طور پر کیسا ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرما دیں ۔ والسلام جزاک الله.

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ انعامی بانڈ( پرائز بانڈز) کی اسکیم میں کسی چیز کی خرید فروخت نہیں ہوتی ،بلکہ اس اسکیم کے تحت جو رقم دی جاتی ہے، درحقیقت حکومت پر قرض ہوتی ہے اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے۔ اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہے کہ حکومت ’’پرائز بانڈز‘‘ والے ہر شخص سے اس کے دیئے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی، لیکن پرائز بانڈز حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی بہر حال یہ بات طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کریگی ، اگر وہ ایسا نہ کرے تو ’’ پرائز بانڈز‘‘ رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا نہ صرف مطالبہ کر سکتا ہے ، بلکہ بذریعہ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتا ہے ۔
چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے ’’ پرائز بانڈز‘‘ کی حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈز کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کے لیے کوئی مقررہ مدت نہیں ہوتی ، جب چاہیں وصول کر سکتے ہیں۔ اب یہ بھی سمجھ لیجیئے کہ بانڈز رکھنے والوں کو بصورت انعام جو کچھ ملتا ہے، وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے۔ جو بحیثیت مجموعی جملہ انعامی بانڈز رکھنے والوں سے مشروط ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث وفقہ کی روشنی میں ناجائز اور سود ہے ۔ اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا نا جائز اور حرام ہے ۔ جس سے ااحتراز لازم ہے۔
جبکہ قومی بچت یعنی نیشنل سیونگ اکاؤنٹ کے معاملات چونکہ سود پر مبنی ہوتے ہیں اس سے حاصل ہونے والا منافع بھی خالص سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تعالى : {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166) والله اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 34117کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • پرائز بونڈ پر سود نہ ہونے کی تصریح کے باوجود سود کیسے؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • "صکوک مضاربہ بانڈز" میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ پر ملنے والے انعام کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ کا حکم-سو روپے کے نئے نوٹ کے بدلے 125 روپے لینا

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • کیا پرائز بانڈ میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ زکا خریدنا حلال ہے یا حرام ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم سے ملنے والے پیسے کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • بیرون ممالک میں انعامی بانڈز کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • ہانعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ سے رقم خریدنا یا جیتنا جائز ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • کیا پرائز بانڈ حلال ہے؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈاور قومی بچت سیونگ اسکیم کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم اور اس سے ملنے والے انعام کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پریمیم بانڈز کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز خرید نے کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   پرائز بانڈ 1
  • پرائز بانڈ اور اس پر ملنے والی انعامی رقم کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   انگلش   پرائز بانڈ 0
Related Topics متعلقه موضوعات