کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گورنمنٹ کی طرف سے جو انعامی بانڈز جاری ہیں اور لوگ اس کو خریدتے ہیں، ان انعامی بانڈز کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ ان کا کیا حکم ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دے کر مشکور فرمائیں۔ والسلام!
پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ انعامی بانڈز کی اسکیم میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوتی، بلکہ اس سکیم کے تحت جو رقم دیجاتی ہے ،در حقیقت وہ رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے، اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے، وہ سود ہوتا ہے ، اور اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہے کہ حکومت ہر پرائز بانڈ والے شخص سے اس کے دیے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی، لیکن انعامی بانڈز حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی یہ بات بہر حال طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کریگی، اگر وہ ایسا نہ کرے ،تو انعامی بانڈز رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔ بلکہ وہ بذریعہ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتے ہیں، چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے پرائز بانڈ کی حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈز کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کیلئے کوئی مدت مقرر نہیں , جب چاہے لے سکتے ہیں ۔ اب یہ بھی سمجھ لیجئے کہ بانڈز رکھنے والوں کو بصورتِ انعام جو کچھ ملتا ہے وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے جو بحیثیت مجموعی جملہ انعامی بانڈز(پرائز بانڈز) رکھنے والوں سے مشروط ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث اور فقہ کی روشنی میں بلاشبہ ناجائز اور سود ہے اور اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا ناجائز اور حرام ہے،جس سے احتراز لازم ہے۔
جتنے روپے کا انعامی بانڈز(پرائز بانڈز) ہیں، اسی قدر واپس لے سکتے ہیں، اگر کسی نے غلطی سے پرائز بانڈز پر ملنے والے انعام کی رقم حاصل کر لی ہو تو جتنی رقم انعام کی تھی اتنی رقم کے بانڈز لے کر انہیں جلا دے یا پھاڑ کر ضائع کر دے تاکہ حکومت کو سود کی رقم واپس پہنچ جائے، کیونکہ اس رقم کا اصل حکم یہی ہے کہ جس سے لی ہے اس کو واپس کر دے اور جب اصل کو لوٹانا مشکل ہو تو بلانیتِ ثواب کسی مستحقِ زکوٰۃ کو مالک وقابض بنا کر دیدے۔
ففي الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166) -
انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ پرائز بانڈ 0