پرائز بانڈ

پرائز بانڈ سے رقم خریدنا یا جیتنا جائز ہے یا نہیں؟

فتوی نمبر :
4770
| تاریخ :
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / پرائز بانڈ

پرائز بانڈ سے رقم خریدنا یا جیتنا جائز ہے یا نہیں؟

پرائز بانڈ سے رقم خریدنا یا جیتنا جائز ہے یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ پرائز بانڈ کی اسکیم میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوتی، بلکہ اس اسکیم کے تحت جو رقم دیجاتی ہے، در حقیقت وہ رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے، اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے، وہ سود ہوتا ہے ، اور اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہے کہ حکومت ہر پرائز بانڈ والے شخص سے اس کے دیے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی، لیکن انعامی بانڈز حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی یہ بات بہر حال طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کریگی، اگر وہ ایسا نہ کرے تو انعامی بانڈز رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔ بلکہ وہ بذریعہ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتے ہیں، چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے پرائز بانڈ کی حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈ کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کیلئے کوئی مدت مقرر نہیں جب چاہے لے سکتے ہیں ۔
اب یہ سمجھ لیجئے کہ بانڈز رکھنے والوں کو بصورتِ انعام جو کچھ ملتا ہے وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے جو بحیثیت مجموعی جملہ انعامی بانڈز(پرائز بانڈ) رکھنے والوں سے مشروط ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث اور فقہ کی روشنی میں بلاشبہ ناجائز اور سود ہے اور اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا ناجائز اور حرام ہے،جس سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ پرائز بانڈز واپس کرنے کی صورت میں جتنے روپے کا پرائز بانڈز ہے، اسی قدر واپس لے سکتے ہیں، اگر کسی نے غلطی سے پرائز بانڈز پر ملنے والے انعام کی رقم حاصل کر لی ہو تو چونکہ وہ سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور مالِ حرام کا حکم یہ ہے کہ جب اس کا مالک معلوم ہو تو اُسے پہنچانا ضروری ہے، اگر اصل مالک معلوم نہ ہو یا اس تک پہنچانا متعذر ہو تو اسے اصل مالک کی طرف سے بغیرنیتِ ثواب صدقہ کرنا واجب ہے، لہذا وہ رقم صدقہ کر دی جائے، البتہ پرائز بانڈ کے عوض کسی شخص سے اسی کے بقدر رقم لینے میں حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: القرض بالشرط حرام والشرط لغو (إلى قوله) كل قرض جر نفعاً حرام
وفي حاشية ابن عابدين: مطلب كل قرض جر نفعا حرام قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 4770کی تصدیق کریں
0     1092
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • پرائز بونڈ پر سود نہ ہونے کی تصریح کے باوجود سود کیسے؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ پر ملنے والے انعام کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • "صکوک مضاربہ بانڈز" میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ کا حکم-سو روپے کے نئے نوٹ کے بدلے 125 روپے لینا

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • کیا پرائز بانڈ میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم سے ملنے والے پیسے کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • بیرون ممالک میں انعامی بانڈز کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • ہانعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈ سے رقم خریدنا یا جیتنا جائز ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی اسکیم اور اس سے ملنے والے انعام کاحکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پریمیم بانڈز کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز خرید نے کا حکم

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • انعامی بانڈز کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

    یونیکوڈ   پرائز بانڈ 0
  • پرائز بانڈز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   پرائز بانڈ 1
  • پرائز بانڈ اور اس پر ملنے والی انعامی رقم کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   انگلش   پرائز بانڈ 0
Related Topics متعلقه موضوعات