حاملہ عورتوں کے لیے حج کا کیا حکم ہے؟ اور ان کے لیے کون کون سی گنجائشیں ہیں؟ رمی کے بارے میں اسلام حاملہ عورتوں کے لیے کیا ریلیکسیشن دیتا ہے ؟ کیا عورت کا محرم آپ کی طرف سے رمی کر سکتا ہے؟
10، 11 اور 12 ذوالحجہ میں حجاج كرام خواه مردهوياعورت دونوں پر رمی جمرات واجب ہے۔بلاعذرشرعي جمرات كي رمي ترك كرناياكسي نائب سے کرواناجائزنہیں،البتہ اگر کوئی شخص معذور یااس قدربیمار ہوکہ جمرہ تک پہنچنے میں شدید تکلیف ميں مبتلاءهونے اور مرض بڑھ جانے کا قوی اندیشہ ہو یااس قدرکمزوراورنحیف ہوكه پیدل چلنے کی استطاعت نہ ہو اور سواری بھی میسر نہ ہو ، تو ایسا شخص رمی میں دوسرے کو نائب بنا سکتا ہے ۔لہذاحاملہ عورت کے لیےبھي خودجمرات كي رمی كرناتکلیف کاباعث بن رہا ہواورکوئی دوسراشخص بطورنائب اس کی طرف سےرمیِ جمرات کرلے توشرعااس کواجازت ہےاوراس کی طرف سے جمرات كي رمي اداءہوجائے گی ۔
جبکہ نائب کے لیے رمی کا طریقہ یہ ہے کہ : پہلے خود اپنی طرف سے سات کنکریاں مارے، اس کے بعد مؤکل کی طرف سے سات کنکریاں مارے ۔ یہ ضروری نہیں کہ پہلے اپنی طرف سے تینوں جمرات کی رمی مکمل کرے، پھر دوبارہ لوٹ کر آئے اور موکل کی طرف سے تینوں جمرات کی رمی کرے۔ البتہ اس طرح رمی کرنا کہ پہلے اپنی طرف سے ایک کنکری پھینکے ، پھر موکل کی طرف سے ایک کنکری پھینکے ، یہ مکروہ ہے ۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: رمي الجمار (جمرة العقبة يوم النحر، والجمار الثلاث أيام التشريق) واجب اتفاقاً، اتباعاً لفعل النبي صلّى الله عليه وسلم"۔۔۔۔۔وتجوز الإنابة في الرمي لمن عجز عن الرمي بنفسه لمرض أو حبس، أو كبر سن أو حمل المرأة، فيصح للمريض بعلة لا يرجى زوالها قبل انتهاء وقت الرمي، وللمحبوس وكبير السن والحامل أن يوكل عنه من يرمي عنه الجمرات كلها (3/ 2254)
وفي غنية الناسك: السادس: أن یرمي بنفسه، فلا تجوز النیابة فیه عند القدرة. و الرجل و المرأة في الرمي سواء، إلا أن رمیها في اللیل أفضل، فلاتجوز النیابة عن المرأة بغیر عذر. وتجوز عند العذر، فلو رمی عن مریض بأمره أو مغمی علیه و لو بغیر أمره أو صبي أو معتوه أو مجنون جاز. والأولی أن یرمي السبعة أولاً عن نفسه، ثم عن غیره. و لو رمی بحصاتین إحداهما عن نفسه والأخری من غیره جاز، ویکره۔(ص:۲۴۳، فصل في شرائط الرمي)