اگر عمرہ کا طواف عصر میں ادا کیا ہے، تو اس کے بعد کے دو نوافل کیا فوراً ادا کئے جاسکتے ہیں یا مغرب کے بعد پڑھنے چاہیئے ؟ اگر فوراً ادا نہیں کئے جاسکتے تو کیا سعی کی جاسکتی ہے نوافل سے پہلے ؟ احرام سے اخراج کے لیے کیا خواتین اپنے بال خود کاٹ سکتی ہیں؟
واضح ہو کہ ہر طواف کے بعد دور کعت واجب ہے لیکن عند الأحناف یہ دور کعت عصر کی نماز کے بعد پڑھنا جائز نہیں ، لہذا اگر کوئی شخص عصر کی نماز کے بعد طواف کرے، تو اس کے لیے عصر کے وقت میں یہ دو رکعت پڑھنا جائز نہیں ، بلکہ اسے چاہیئے کہ مغرب کی نماز کے بعد مغرب کی سنتوں سے قبل یہ دور کعت ادا کرے ، البتہ اگر عصر کے وقت سعی کرنا چاہے تو طواف کی دورکعت پڑھنے سے قبل بھی سعی کی جاسکتی ہے ، جبکہ احرام سے نکلنے کے لیے عورت بالوں کی متعین مقدار خود بھی کاٹ سکتی ہےاور کسی خاتون یا محرم رشتہ دار سے بھی کٹوا سکتی ہے۔
کما فی الدر المختار : (وكره نفل) قصداولو تحية مسجد (وكل ما كان واجبا) لالعينه بل (لغيره) وهو ما يتوقف وجوبه على فعله (كمنذور، وركعتي طواف) اھ (1 /374)۔
و فی البحر الرائق : (قوله واختم الطواف به وبركعتين فی المقام أو حيث تيسر من المسجد) ، (الی قوله) وأما صلاة ركعتي الطواف بعد كل أسبوع فواجبة على الصحيح لما ثبت فی حديث جابر الطويل أنه - عليه السلام - «لما انتهى إلى مقام إبراهيم - عليه السلام - قرأ {واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى} [البقرة: 125] » فنبه بالتلاوة قبل الصلاة على أن صلاته هذه امتثالا لهذا الأمر، والأمر للوجوب إلا أن استفادة ذلك من التنبيه، وهو ظني فكان الثابت الوجوب، ويلزمه حكمنا بمواظبته - عليه السلام - من غير ترك إذ لا يجوز عليه ترك الواجب اھ (2/ 356)۔