صفا مروہ کے درمیان سعی کا کیا طریقہ ہے؟ تفصیل کے ساتھ بیان فرمائیں۔
واضح ہو کہ طواف اور اس کے متعلقات سے فارغ ہو کر جب سعی کے لیے جانا ہو تو پہلے ایک مرتبہ پھر حجر اسواد کا استلام کرے، جیسا کہ دورانِ طواف کیا جاتاہے اور استلام کرتے ہوئے یہ دعا پڑھے(بسم اللہ اللہ اکبر وللہ الحمد والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ)، اس کے بعد باب الصفا سے نکل کر صفا پہاڑی پر جائے، صفا کے قریب پہنچ کر یہ دعا پڑھے «أبدأ بما بدأ اللہ بہ» {إن الصفا والمروۃمن شعائر اللہ} [البقرۃ: 158] صفا پہاڑی پر پہنچنے کے بعد ایسی جگہ کھڑا ہو جہاں سے بیت اللہ شریف نظر آئے، چنانچہ بیت اللہ کی طرف رخ کرکے یہ کلمات تین مرتبہ پڑھے: (اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ) اس کے بعد یہ دعا بھی تین مرتبہ پڑھے: (لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر، لا الٰہ الا اللہ وحدہ، أنجز وعدہ، ونصر عبدہ، وہزم الاحزاب وحدہ) اس کے بعد اپنے لیے جو دعا مانگنی ہو، وہ مانگ لی جائے، دعا سے فارغ ہونے کے بعدسعی کی نیت کرے کہ: ”میں سعی کی نیت کرتا ہوں، اے اللہ! اس کو میرے لیے آسان فرمادیجیے اور قبول فرمالیجیے“ اس کے بعد مروہ کی طرف آہستہ آہستہ روانہ ہو، جب سبز لائٹوں کے قریب پہنچ جائے تو ان کے درمیان درمیانی رفتار سے ڈورے، سبز لائٹ پار کرلینے کے بعد پھر اسی طرح عام رفتار سے مروہ کی طرف چلے، سعی کے دوران یہ دعا پڑھے (رب اغفر وارحم وتجاوز عما تعلم، انک انت الاعز الاکرم)اس کے علاوہ دیگر مسنون دعائیں بھی پڑھی جاسکتی ہیں، جب مروہ پہنچ جائے تو بیت اللہ کی طرف رخ کرکے اسی طرح دعا مانگے جس طرح صفا پر مانگی، یہ سعی کا ایک چکر ہوگیا، اس کے بعد صفا کی طرف روانہ ہو اور میلین اخضرین (سبز لائٹوں) کے درمیان درمیانی رفتار سے دوڑے اور صفا پر پہنچ کر بیت اللہ کی طرف رخ کرکے اسی طرح دعا مانگے، یہ دوسرا چکر مکمل ہوگیا، یاد رہے کہ صفا مروہ پر استلام ثابت نہیں، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔مذکور طریقہ سے جب ساتواں چکر مروہ پر پورا کرلے تو آخر میں دو رکعات نفل ادا کرے، لیکن مروہ پر نہیں، بلکہ مروہ سے نیچے اتر کر حرم شریف میں کسی بھی جگہ پڑھ لے، اس کے بعد حلق یا قصر کرالے۔جبکہ دورانِ سعی اگر نماز کا وقت ہوجائے تو سعی موقوف کرلے اور نماز کے بعد اسی جگہ سے سعی شروع کرے۔یاد رہے کہ سعی کے لیے باوضو ہونا شرعاً لازم نہیں، البتہ بہتر وافضل ہے، لہذا اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
ففی الصحيح لمسلم: عن جعفر بن محمد، عن أبيه، قال: دخلنا على جابر بن عبد الله، فسأل عن القوم حتى انتهى إلي، فقلت: أنا محمد بن علي بن حسين، فأهوى بيده إلى رأسي فنزع زري الأعلى، ثم نزع زري الأسفل، ثم وضع كفه بين ثديي وأنا يومئذ غلام شاب، فقال: مرحبا بك، يا ابن أخي، سل عما شئت، فسألته، وهو أعمى، وحضر وقت الصلاة، فقام في نساجة ملتحفا بها، كلما وضعها على منكبه رجع طرفاها إليه من صغرها، ورداؤه إلى جنبه، على المشجب، فصلى بنا، فقلت: أخبرني عن حجة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: بيده فعقد تسعا [ص:887]، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مكث تسع سنين لم يحج، ثم أذن في الناس في العاشرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حاج،۔۔۔۔(الی قوله) ثم رجع إلى الركن فاستلمه، ثم خرج من الباب إلى الصفا، فلما دنا من الصفا قرأ: {إن الصفا والمروة من شعائر الله} [البقرة: 158] «أبدأ بما بدأ الله به» فبدأ بالصفا، فرقي عليه، حتى رأى البيت فاستقبل القبلة، فوحد الله وكبره، وقال: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله وحده، أنجز وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده» ثم دعا بين ذلك، قال: مثل هذا ثلاث مرات، ثم نزل إلى المروة، حتى إذا انصبت قدماه في بطن الوادي سعى، حتى إذا صعدتا مشى، حتى أتى المروة، ففعل على المروة كما فعل على الصفا. (2/ 888)