السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ!
مؤدبانہ گزارش ہے ,مجھے دو عدد مسئلہ پر رہنمائی عنایت فرما دیجئے ۔
۱: گورنمنٹ پاکستان سے منظور شدہ ادارہ (مرکز قومی بچت ) اسکے سیونگ سرٹیفیکٹ جس پر ہر ماہ منافع ملتا ہے، (NATIONAL SAVING CH ) اس کا لینا یا اس کا کام کرنا۔
۲: پرائز بانڈز بھی حکومتِ پاکستان سے منظور شدہ ہیں، انعامی رقم پر ٹیکس کی کٹوتی بھی کرتے ہیں۔ انعام رقم جو ملے اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ کیا ہم انعامی بانڈز خرید سکتے ہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں
:سوال میں مذکور اسکیم خالص سودی معاملات پر مشتمل ہونے کیوجہ سے شرعاً جائز نہیں ، اس لئے اس میں انوسٹمنٹ کی غرض سے رقم لگانا اور اس پر پیسے وصول کرنا نا جائز اور حرام ہے ،اور اس سے احتراز لازم ہے۔
۲:جبکہ گورنمنٹ سے منظور شدہ پرائز بانڈ پالیسی ,ربا و قمار اور سودی معاملہ پر مشتمل ہونیکی بنا پر جائز نہیں، اس لئے اس اسکیم میں شمولیت کی غرض سے پرائز بانڈ کا خریدنا اور انعام لگنے کی صورت میں اس کا وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا ہر دو امور نا جائز اور حرام و واجب الاحترار ہیں۔
كما قال الله تعالیٰ: ﴿يٰا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوه لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة 90) والله تعالى أعلم!
کما قال الله تعالى: ﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275) ۔
انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ پرائز بانڈ 0