جناب مفتی صاحب!
گذارش یہ ہے کہ میں ایک کاروباری شخص ہوں ، سائٹ ایریا میں میری فیکٹری ہے ، میری فیکٹری لومز پر مشتمل ہے ،جو کپڑا بناتی ہے ،میرے کام کرنے کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ مختلف پارٹیاں مجھے دھاگہ فراہم کرتی ہیں، اور میں ان دھاگوں سے مشین یعنی لوم پر کپڑا تیارکرتا ہوں، پارٹیاں مجھے اس کام پر معاوضہ ادا کرتی ہیں، جس کو ہم مزدوری کا نام دیتے ہیں،ہم جتنا کپڑا تیار کرینگے، جس کی طے شدہ ریٹ کے مطابق مزدوری دی جائے گی، ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ پارٹی اپنا تیار شدہ کپڑا جلد اٹھائے ،تا کہ ہماری ادائیگی بھی جلد ہو سکے، لیکن اُ س کے برعکس پارٹی اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق تیار کپڑا اٹھواتی ہے، اکثر پارٹیوں کو مال جلد اٹھوانے کی تاکید کرتے رہتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے انداز سے ہی مال اٹھاتی ہیں ۔
درجِ بالا تفصیل سے ہمارے کاروباری طریقے کار کا واضح تعین ہوتا ہے، 8 جولائی 1999 کی شب بد قسمتی سے ہماری فیکٹری پر مسلم ڈکیتی کی واردات ہوئی ،ڈاکوؤں نے ہماری فیکٹری کے مزدوروں اور چوکیدار کو اسلحہ کے زور پر باندھ دیا ،اور ٹرک بھر کر لاکھوں روپے کی مالیت کا مال بھر کر فرار ہو گئے، انہوں نے کپڑا اور مشینری کے قیمتی پارٹس اور رقم لوٹ لی، تھانہ میں رپورٹ اور FIR کاٹی گئی ، ہم نے 2 ملزمان شناخت کر کے پکڑوائے، مگر ابھی تک مال برآمدگی نہیں ہو سکی ،ملزمان اس ڈکیٹی کے ورادات سے انکاری ہیں ، ہم نے ڈکیتی کی واردات سے مال کی انشورنس ہے، مگر اس میں بھی رکاوٹیں حائل ہیں، جو دور کرنے کی کوشش میں ہیں۔
درجِ بالا حقائق کے پیش نظر میں آپ سے معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میری ذمہ داری اس معاملہ میں کس حد تک ہے ؟ پارٹیوں کا چوری شدہ کپڑا اسٹاک میں تھا،اس کی مزدوری بھی مجھے نہیں ملی، کیونکہ بل ڈلیوری کے بعد بنتا ہے ،اور ساتھ میں میرا قیمتی سامان اور رقم بھی لوٹی گئی ہے، لہذا کیا میں پارٹیوں کے نقصان کا ذمہ دار ہوں ؟ اور اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہوگی ؟ برائے مہربانی مجھے بتایا جائے کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے؟تا کہ میں دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض کو ادا کرتا رہوں ۔ شکریہ
مذکور کپڑا چونکہ سائل کے پاس امانت تھا، اور اس کے ضائع کرنے میں سائل کا عمل دخل بھی نہیں ہے، لہذا ڈاکہ پڑنے کی صورت میں پارٹیوں کے نقصان کی ذمہ داری بھی سائل پر نہیں ہوگی۔ البتہ سائل نے اگر مال تیار ہونے کے بعد پارٹیوں کو مطلع کر دیا تھا ،اور ان کے مال اٹھانے میں بھی کسی قسم کی روک ٹوک نہیں کی ،تو پارٹیوں پر لازم ہے کہ اس مال کی مزدوری سائل کو ادا کر دیں۔
وفي الهداية شرح البداية: قال ومن استأجر خبازا ليخبز له في بيته قفيزا من دقيق بدرهم لم يستحق الأجر حتى يخرج الخبز من التنور لأن تمام العمل بالإخراج فلو احترق أو سقط من يده قبل الإخراج فلا أجر له للهلاك قبل التسليم فإن أخرجه ثم احترق من غير فعله فله الأجر اھ (3/ 233)۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0