میں آپ سے استخارہ کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ استخارہ کس لئے کرنا چاہیئے ؟اور اس کا طریقہ کیا ہے؟ اور اس کے بعد کیا کرنا چاہیئے ؟
جب آدمی کسی ایسے کام کے بارے میں جو شرعاً جائز ہو اور اس کے بہتر یا غیر بہتر ہونے میں تردد ہو ،تو اللہ تعالیٰ سے صلاح لے لے، اس صلاح لینے کو”استخارہ“کہتے ہیں، یہ ایک مسنون عمل ہے، احادیثِ طیبہ میں اس کی بہت ترغیب آئی ہے،” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے صلاح نہ لینا، استخارہ نہ کرنا بدبختی اور کم نصیبی کی بات ہے“ کہیں منگنی، بیاہ، سفر یا اور کوئی کام کرے تو استخارہ کیے بغیر نہ کرے، ان شاء اللہ کبھی اپنے کئے پر پشیمان نہ ہوگا۔
استخارہ کی نماز کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دو رکعت نفل نماز پڑھے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد بھیجے، پھر خوب دل لگا کر یہ دعا پڑھے:-
”اللهمَّ إنِّي أَسْتَخِيْرُكَ بعِلْمِكَ، وأسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْألُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيْمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ، اللهمَّ إنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لَيْ فِي دِيْنِيْ، وَمَعَاشِيْ، وَعَاقِبَةِ أَمْرِيْ وَعَاجِلِه واٰجِلِه، فَاقْدِرْهُ لِیْ، وَيَسِّرْهُ لِیْ، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيْه، وَإنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ، وَعَاقِبَةِ أَمْرِيْ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاصْرِفْنِي عَنْهُ،وَاقْدِرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي بِه.“
اور جب ”هٰذَا الْأَمْرَ“ پر پہنچے تو اس کام کا تصور کرے، جس کے لئے استخارہ کرنا چاہتا ہے،اس کے بعد پاک وصاف بچھونے پر قبلہ کی طرف منہ کر کے با وضو سو جائے،جب سو کر اٹھے اس وقت جو بات دل میں مضبوطی سے آئے، وہی بہتر ہے، اسی کو کرنا چاہیئے۔
کما في الترغيب والترهيب: (الترغيب في صلاة الاستخارة، وما جاء في تركها). ورواه البزار، ولفظه: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "من سعادة المرء استخارته ربه، ورضاه بما قضى، ومن شقاوة المرء تركه الاستخارة، وسخطه بعد القضاء". (1/ 480)
و في مشكاة المصابيح: عن جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كما يعلمنا السورة من القرآن يقول:" إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك (إلی قوله) ثم أرضني به". قال: "ويسمي حاجته" .رواه البخاري (1/ 116)
وفي مرقاة المفاتيح: تحته (إذا هم)، أي: قصد (أحدكم بالأمر)، أي: من نكاح أو سفر أو غيرها مما يريد فعله أو تركه، اھ (1/ 401)
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0