السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ استخارہ کرتا ہے اور لوگ استخارہ کروانے کے لئے اس سے مختلف امور میں رجوع بھی کرتے ہیں، مثلاً رشتے کے لیے، کام کاروبار، جائیداد کی خرید و فروخت کے لئے اور اس طرح کے مختلف معاملات میں استخارہ کرواتے ہیں اور اس کا استخارہ کرنے کا طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ شاگردوں میں سے کسی کو آنکھیں بند کروا کر روحانی صلاحیت کے ذریعے جو قرآن کریم کی آیات اور اسماءِ حسنیٰ کے اوراد کے ذریعے حاصل ہوئی ہے، اور اس عمل کے دوران قرآنی آیات اور اسماءِ حسنٰی کی تلاوت کے ذریعے چیک کرتا ہے ،تو جو اس کے شاگرد کو ان معاملات کے بارے میں نظر آنا مناسب ہو یا مناسب نہ ہونا ،تو اس کے مطابق وہ لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں، اسی طرح لوگ اس سے جادو کا علاج بھی کرواتے ہیں، اس کا طریقۂ کار بھی یہی ہے کہ وہ شاگرد سے آنکھیں بند کروا کر روحانی صلاحیت کے ذریعے جو آیات کریمہ اور اسماء ِحسنٰی کے اوراد کے ذریعے حاصل ہوئی ہے اور عمل کے دوران قرآنی آیات، اسماءِ حسنٰی، منزل، آیت الکرسی کی تلاوت کے ذریعے علاج کرتا ہے ،اور اس سے لوگوں کو روحانی بیماری سے اللہ تعالیٰٰ کے فضل سے نجات بھی ملتی ہے، بندہ اور اس کے شاگرد عقائد اور عمل میں علماءِ دیوبند کے نقشے قدم پر ہیں، علاج اور استخارے میں جنات شیاطین سے کسی قسم کی کوئی مدد نہیں لیتا اور نہ ہی اس کے قبضے میں کوئی جنات ہیں، بندے کے علاج کرنے میں کوئی غیر شرعی اور شرکیہ کوئی عمل بھی نہیں ہے۔
(1) تو کیا ایسے بندے سے اس کے اس عمل کے ذریعے استخارہ اور جادو کا علاج کرنا اور کروانا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس کا اس طرح استخارہ کر کے مستقبل کے بارے میں مشورہ دینا یہ عمل کاہنوں کے عمل کے مترادف ہے کہ نہیں؟
(2)اس بندے کا اس طریقہ پر سحر کا علاج کرنا اور اس سے لوگوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے، جو اس پر جو اجرت لیتا ہے، اس کے لئے اس اجرت کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس معاملے میں راہ نمائی فرمائیں آپ کی عین نوازش ہوگی۔ والسلام!
مذکور شخص اور اس کے شاگر د حضرات اگر متبع سنت اور پابندِ شریعت ہوں، جادو اور آسیب وغیرہ کا علاج و معالجہ قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ کے ذریعے کرتے ہوں، ان کے طریقۂ علاج میں کسی قسم کے شرکیہ افعال و اقوال کا عمل دخل نہ ہو، تو ایسی صورت میں ان کے لئے شرعی حدود میں رہتے ہوئے جادو وغیرہ کا علاج کرنا جائز اور اس پر اجرت لینے کی گنجائش ہے، لیکن سوال میں استخارے کا جو طریقۂ کار ذکر کیا گیا ہے، یہ چونکہ احادیثِ مبارکہ میں موجود طریقہ کے خلاف ہے، اس لئے اس مذکور طریقۂ کار کے مطابق مذکور شخص یا ان کے شاگردوں سے استخارہ کروانے سے اجتناب کرنا چاہیے ، اور اگر کوئی اہم کام در پیش ہو تو اس کے لئے سنت کے مطابق ازخود استخارے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
کما في مرقاة المفاتيح: وأما ما كان من الآيات القرآنية، والأسماء والصفات الربانية، والدعوات المأثورة النبوية، فلا بأس، بل يستحب سواء كان تعويذا أو رقية أو نشرة،وأما على لغة العبرانية ونحوها، فیمتنع لإحتمال الشرك فیها (رواه أبو داود) اھ (7 /2880)
وفي فتح البارى: عن جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله ﷺ يعلمنا الاستخارة فی الأمور كما يعلمنا السورة من القرآن يقول: إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة، ثم ليقل: أللّٰهُمَّ إني أستخيرك بعلمك اھ (3 /48)
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0