السلام علیکم !
بعد السلام گزارش یہ ہے کہ میں ایک نجی ادارے میں بطور ایڈمن مینجر اپنی خدمات دے رہا ہوں ، اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں کمپنی نےملازمین کیلئے پراویڈنٹ فنڈ کی سہولت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، جس کے نکات درج ذیل ہیں ، براہ مہربانی اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں :
1۔کمپنی ہر ماہ ملازم کی تنخواہ سے 1000 کاٹے گی اور 1000 خود شامل کرے گی 18 ماہ تک , اس کے بعد ملازم اس میں سے 1 سال کی جمع شدہ رقم جو کہ 24000 روپے بنتے ہیں وہ کمپنی سے لے سکے گا ، اسکے بعد ہر سال کے بعد 24000 روپے اسی طرح ملتے رہیں گے تنخواہ سے 1000 روپے کٹوتی ہوکر ۔
2۔جو 6 ماہ کی رقم کمپنی روکے گی وہ سیکورٹی ڈپاذٹ کی طور پر کمپنی کے پاس رہے گی کیونکہ اکثر ملازمین نے کمپنی سے لون کی مد میں رقم لی ہوئی ہوتی ہے ، اگر کوئی ملازم بغیر اطلاع کام چھوڑ جائے تو یہ 6 مہینے کی رقم اور جو بھی اسکا پراویڈنٹ فنڈ جمع ہوگا اس سے اسکا لون ختم کیا جائیگا ۔
3۔کمپنی اس شخص کا پراویڈنٹ فنڈ روکنے کی مجاز ہوگی جو بغیر ایک ماہ کے نوٹس کے نوکری چھوڑ دیگا ۔
4۔اگر کوئی ملازم 18 ماہ پورے ہونے سے پہلے کام چھوڑ دیتا ہے اور ایک مہینے کا نوٹس دے کر جاتا ہےاور اسکا کوئی لون بھی نہیں ہے تو کمپنی صرف اس شخص کے کاٹے ہوئے پیسے جو پراویڈنٹ فنڈ کی مد میں کاٹے ہونگے واپس کرنے کی مجاز ہوگی۔
5۔ اگر کمپنی خود کسی شخص کو فارغ کرتی ہے تو کمپنی اس کا پراویڈنٹ فنڈ دینے کی مجاز ہوگی اگر اس شخص کا کوئی لون نہ ہو اور اسنے کمپنی کو کوئی نقصان نہ پہنچایا ہو ۔
6۔اگر کوئی ملازم اپنا لون ادا نہیں کر پارہا تو کمپنی اسکا پراویڈنٹ فنڈ روک کر اسکا لون اتارنے کی مجاز ہوگی ۔
نوٹ: یہ کٹوتی اختیا ری ہے، پراویڈنٹ فنڈ کا اطلاق اسی جمع شدہ رقم پر کیا گیا ہے اور یہ رقم آگے کسی کاروبار میں نہیں لگائی جاتی۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق یہ کٹوتی اگر چہ اختیاری ہو ، لیکن چونکہ ادارہ مذکور دونوں رقمیں کسی سودی کاروبار میں نہیں لگاتا بلکہ اپنے اکاؤنٹ میں ہی جمع رکھتا ہے ، لہذا ملازمیں کیلئے مذکور دونوں رقمیں لینا اور اپنے استعمال میں لانا شرعاً درست ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ، جہاں تک بغیر پیشگی اطلاع کے نوکری چھوڑنے پر مکمل فنڈ روکنے کا تعلق ہے تو یہ عمل شرعاً جائز نہیں ، بلکہ یہ تعزیر مالی کے زمرہ میں آتا ہے جو شرعاً ناجائز عمل ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ، البتہ اس صورت میں اس کی تنخواہ سے کٹوتی کردہ رقم کے علاوہ کمپنی کی طرف سے ملائی گئی رقم روکی جاسکتی ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ، نیز اگر کوئی ملازم کمپنی سے لیا ہوا لون ادا نہ کر رہا ہو تو ادارہ کیلئے اس کے فنڈ سے لون کے بقدر کٹوتی کرنا شرعاً درست ہے۔
کما فی البحر الرائق: (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها الخ( ج 7 ص 300 )۔
وفی رد المحتار: مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز الخ( ج 4 ص 61)۔
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0