ترجمہ :جناب میرا نام سید فہد اللہ ہے ،آئی ٹی انجینئر ہوں، میرے والد کا انتقال 3 سال پہلے ہوا ہے ہم چار (4) بھائی اور ایک بہن ہیں ،ہمارے گھر کا خرچہ میں اور میرے بڑے بھائی چلاتے ہیں ، ہم دونوں کی تنخواہ سے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے ،بہن کی شادی ہے اپریل میں، میں کافی جگہ نوکری کے انٹرویو زدیتا ہو ں اور کوشش کرتا رہتا ہوں ابھی کچھ دن پہلے مجھے JS BANKمیں نوکری کی آفر ملی ہے میری موجودہ تنخواہ سے 45 ہزار سےزیادہ ہے ،میں کیا کروں ؟ آپ بتائیں، میں نے اپنے آفس میں بات کی تو انہوں نے صاف انکار کردیا کہ وہ لوگ سیلری بڑھا نہیں سکتے ،مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں بہن کی شادی اور گھر کے معاملات کے ساتھ کیسے مینج کروں ،کیا میں کچھ وقت کے لیے یہ بینک کی نوکری کرلوں ؟ اور آگے دوسری نوکری کی ٹرائی کرتا رہوں ،جب تک بہن کی شادی، اور اس کے انتظامات بھی ہوجائیں گے ،واضح رہے کہ میں آئی ٹی آفس میں ہوں گا جس کا بینک سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔
واضح ہو کہ سودی بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی لین سے نہ ہو جیسے چوکیداری ،صفائی ستھرائی وغیرہ تو اسے اختیار کرنے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ،لہذا سائل کیلئے مذکور بینک میں " IT " کی ملازمت اختیار کرنے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ، تاہم اگر سائل کو کوئی اور ذریعہ آمدن بآسانی میسر ہو جائے تو پھر مذکور ملازمت کو ترک کرکے اسے اختیار کرنا زیادہ بہتر اور افضل ہوگا ۔
کمافی تکملۃ فتح الملھم : قولہ "وکاتبہ " لان کتابۃالربا اعانۃ علیہ ومن ھنا ظھر ان التوظف فی البنوک الربویۃ لایجوز فان کان عمل الموظف فی البنک مایعین علی الربا کالکتابۃ او الحساب فذالک حرام لوجھین :الاول :اعانۃ علی المعصیۃ والثانی :اخذالاجرۃ من المال الحرام فان معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا واما اذا کان العمل لاعلاقۃ لہ بالربا فانہ حرام للوجہ الثانی فحسب فاذا وجد بنک معظم دخلہ حلال جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الاعمال اھ (1/619)