تدفین

پرانی قبریں خالی کرکے اس میں دوبارہ تدفین کرنا

فتوی نمبر :
68464
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / جنائز / تدفین

پرانی قبریں خالی کرکے اس میں دوبارہ تدفین کرنا

ایک مسئلہ میں علماءِکرام سے راہ نما ئی درکار ہے ،آج کل ہمارے یہاں ایک سوچ ترقی کرتی جارہی ہے،اور بہت سے قبرستان میں یہ طریقہ اختیار ہوگیاہے ،قبرستان میں قبر کو صرف نمبر دیا جاتاہے، اور آخری نمبر پر پہنچنے کے بعد واپس پہلے نمبر پر شروع کیا جاتا ہے ، میں نے علماء سے سناہے کہ خدا کی زمین وسیع ہے بلا ضرورت اس طرح نہیں کرنا چاہیئے ،ابھی حال ہی میں انٹرنیٹ میں اس کا نتیجہ ایک سوال کے جواب میں دیکھا کسی سائل نے سوال کیا تھا اس کے جوان بیٹےکا انتقال ہوگیا اور چھ ماہ بعد ان کا بیٹاماں باپ کو خواب میں آتا رہا ، تو وہ قبرستان گۓ ، تو پتہ چلا کہ اس قبر میں دوسرا کوئی دفن ہے،اب ان والدین کا کیا حال ہوگا ؟مختصراً میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے برادری کا ایک قبرستان ہے ، شہرسے باہر" حب" میں ہے ، اور لوگوں سے چند ہ کرکے زمین خرید ی ہے، 1967 میں دفنانا شروع کیا ، اب آہستہ آہستہ قبرستان پورا ہونے لگاہے ، مسئلہ یہ ہے کے کچھ زبان عام اور خاص سے سننے میں آیاہے کہ جگہ ختم ہو جائے تو اول والے سے شروع کرکے واپس دفنانے کاعمل شروع کریں گے، حالانکہ برادری اور زمین بیچ و خرید سکتا ہے، لیکن آج کل جدید سوچ ہے اور ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ قیامت کہ دن ایک ایک قبرمین سے (70)مردے نکلیں گے ، شاید انکو گنتی پوری کرنی ہے، اس قبرستان میں ( 1967 )میں ہمارے ایک عزیز کو قبرنمبر( 7 )میں دفنا یا گیا ہے ، ہمارے یہاں نمبر کی ترتیب ہے، اور قبر بھی بلکل شریعت کی مطابق ہے، ایک نام کی تختی ہے، اور مرحوم کے بچے، پوتے، نواسے قبر میں زیارت کے لئے جاتے ہیں ،اب ایسے قبر کو بلاوجہ ختم کیا جاسکتاہے؟ا اب تو اکثر یت اور طاقت کا دورہے اور یہ مسئلہ صرف ایک برادری اور ایک جگہ کا نہیں ہے، آپ کی راہ نمائی درکار ہے، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہا ں اپنے آبا و اجداد کی قبر میں دفنانے کا رواج ہے، قبرستان میں وسیع جگہ ہو تو یہ عمل صحیح ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بلا کسی شدید ضرورت کے پرانی قبر میں نئے مردہ کو دفن کرنا درست نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ،تاہم اگر کسی قبرستان میں جگہ کی تنگی ہو اور نئے مردوں کی تدفین کیلئے جگہ میسر نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں اگر پرانی قبر کی نعش گل سڑ چکی ہو اور ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوکر مٹی بن چکی ہو تو اس پرانی قبر میں نئے مردہ کو دفن کرنا درست ہے ،ورنہ نہیں ،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں گر قبرستان میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے پرانی قبر میں نئے مردوں کو دفن کیا جاتا ہو تو مذکور بالا وضاحت کے مطابق تدفین کی جاسکتی ہے ،ورنہ نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الرد: و لا يدفن اثنان في قبر إلا لضرورة، و هذا في الابتداء، و كذا بعده. قال في الفتح، و لا يحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلي الأول فلم يبق له عظم إلا أن لا يوجد فتضم عظام الأول و يجعل بينهما حاجز من تراب.اھ(2/233)۔
و فی البحر الرائق : و لا يدفن اثنان و ثلاثة في قبر واحد إلا عند الحاجة يوضع الرجل مما يلي القبلة ثم خلفه الغلام ثم خلفه الخنثى ثم خلفه المرأة و يجعل بين كل ميتين حاجزا من التراب ليصير في حكم قبرين هكذا «أمر النبي - صلى الله عليه وسلم - في شهداء أحد و قال قدموا أكثرهم قرآنا» اهـ.(2/341)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حشمت علی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68464کی تصدیق کریں
0     902
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات