کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام بیچ اس مسئلے کے کہ قبر کی گہرائی اور چوڑائی کی کوئی شرعی حد مقرر ہے یا نہیں ؟ اور اگر ہے تو کتنی ہے؟ جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
آدمی کے نصف قد کے برابر قبر کی گہرائی اور چوڑائی جبکہ اس کے قد کے برابر قبر کی لمبائی ہونی چاہئے البتہ اگر گہرائی بھی قد کے برابر کردی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
فی الدر المختار: (وحفر قبرہ)فی غیردار( مقدار نصف قامۃ) فان زاد فحسن وقال الشامی تحت ھٰذہ العبارۃ: أو الٰی حد الصدر وإن زاد إلٰی مقدار قامۃ فہو أحسن کما فی الذخیرۃ، فعلم أن الادنی نصف القامۃ والأعلی القامۃ(الی قولہ) وطولہ علی قدر طول المیت، وعرضہ علی قدر نصف طولہ۔ (ج۲، ص۲۳۴)-