تدفین

میت کے نعش کو سمندر برد کرنا

فتوی نمبر :
11817
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / جنائز / تدفین

میت کے نعش کو سمندر برد کرنا

کیا ایک مردہ آدمی کو سمندر میں بہایا جا سکتا ہے؟ اور کیا کرنٹ (بجلی) کے ذریعہ مرنے والے کو سمندر میں بہایا جا سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر سمندری جہاز وغیرہ میں ہی انتقال ہو جائے اور خشکی تک پہنچانے کی صورت میں نعش کے خراب ہونے کا شدید اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں میت کو غسل وکفن دیکر اور نمازِ جنازہ پڑھنے کے بعد کوئی بھاری چیز باندھ کر سمندر میں ڈالنے کی گنجائش ہے، جبکہ خشکی پر کرنٹ وغیرہ کی وجہ سے مرنے والے کو سمندر میں پھینکنا جائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: ولو مات الرجل في السفينة يغسل ويكفن، كذا في المضمرات، ويصلى عليه ويثقل ويرمى في البحر، كذا في معراج الدراية. (1/ 159)
وفی الدر المختار: مات في سفينة غسل وكفن وصلي عليه وألقي في البحر إن لم يكن قريبا من البر اھ (2/ 235) واللہ أعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 11817کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات