کیا ایک مردہ آدمی کو سمندر میں بہایا جا سکتا ہے؟ اور کیا کرنٹ (بجلی) کے ذریعہ مرنے والے کو سمندر میں بہایا جا سکتا ہے؟
اگر سمندری جہاز وغیرہ میں ہی انتقال ہو جائے اور خشکی تک پہنچانے کی صورت میں نعش کے خراب ہونے کا شدید اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں میت کو غسل وکفن دیکر اور نمازِ جنازہ پڑھنے کے بعد کوئی بھاری چیز باندھ کر سمندر میں ڈالنے کی گنجائش ہے، جبکہ خشکی پر کرنٹ وغیرہ کی وجہ سے مرنے والے کو سمندر میں پھینکنا جائز نہیں۔
ففی الفتاوى الهندية: ولو مات الرجل في السفينة يغسل ويكفن، كذا في المضمرات، ويصلى عليه ويثقل ويرمى في البحر، كذا في معراج الدراية. (1/ 159)
وفی الدر المختار: مات في سفينة غسل وكفن وصلي عليه وألقي في البحر إن لم يكن قريبا من البر اھ (2/ 235) واللہ أعلم!