کہا جاتا ہے کہ قبر پر کوئی سبز ٹہنی وغیرہ رکھ دی جائے تو قبر والے پر اس وقت تک عذاب رُک جاتا ہے، جب تک وہ ٹہنی خشک نہ ہوجائے، کیا شریعت میں یہ ثابت ہے؟
اگرچہ حضور اکرم ﷺ سے سبز ٹہنیوں کا تخفیفِ عذاب کیلیے قبر پر رکھنا صرف ایک مرتبہ ثابت ہے، مگر یہ کوئی حکمِ شرعی نہیں اور نہ ہی تخفیفِ عذاب سبز ٹہنی پر موقوف ہے، بلکہ یہ عمل آپ علیہ السلام کے ساتھ خاص تھا، اور آپ کی ہی برکت تھی، اس لیے اس عمل کو لازم اور ضروری کا درجہ دینے سے احتراز لازم ہے۔
ففی المشکوة: عن ابن عباس قال مر النبی ﷺ بقبرین فقال: انہما لیعذبان فی کبیر اما احدهما فکان لا یستر من البول وفی رواية لمسلم لا یستنزہ من البول واما الأخوف فکان یمشی بالنمیمة ثم اخذ جريدة رطبة فشقہا بنصفین ثم غرز فی کل قبر واحدة قالوا یا رسول اللہ لم صنعت هذا فقال لعله ان یخفف عنہما مالم ییبسا اه (ج۱، ص۴۲)
وفی مرقاة المفاتیح: قال النووی اما وضعہما علی القبر فقیل انه صلی اللہ علیه وسلم سأل الشفاعة لہما فاجیب بالتخفیف الی ان ییبسا (الی قوله) وقد انکر الخطابی ما یفعله الناس علی القبور من الخواص ونحوها بہذا الحدیث وقال لا اصل له (الی قوله) ان هذا الحدیث واقعة خاص لا یفید العموم اه (2/58) واللہ اعلم بالصواب!