۱)۔ کیاقبر کو گراکر اس پر نئی قبر بنانا جائز ہے؟اور قبر پر نام کا کنبہ لگانا جائز ہے ؟
(2)۔ 25 سال پہلے میرے والد کا انتقا ل ہوا ۔ کافی دنوں کے بعد فاتحہ کہنے گیا تو ان کی قبر نظر نہیں آئی، میں نے اجتماعی دعا کر لی، آپ مجھے بتائیں کہ میرا دعا والد کے حق میں ہو گئی یا نہیں ؟فقہ حنفی کی روشنی میں جواب دیں۔
(ا)۔ کسی قبر کو بلاعذر گرانا اور پھربنانا درست نہیں، اس سے احتراز چاہیے ۔ البتہ اگر کوئی قبر پانی وغیرہ کی وجہ سے خراب ہو گئی ہو یا عرصہ دراز گزرنے کی وجہ سے بوسیدہ ہو گئی ہو تو اس کے اوپر مزید مٹی وغیرہ ڈال کر بنانا جائز ہے ۔ اسی طرح علامت کے طور کتبہ لگانے کی بھی گنجائش ہے، لیکن یہ ضروری نہیں ۔
(2)۔ اپنے والد مرحوم کے حق میں آپ کی دعا بلاشبہ صحیح ہے ۔ اور اگر کسی بھی مرحوم کے ایصالِ ثواب کی نیت سے نیک عمل کیا جائے تو اس کا بھی ثواب اُسے پہنچتا ہے ،تاہم سائل کا اپنے والد مرحو م کی قبر بھو ل جا نا اچھی بات نہیں ۔کبھی کبھار اپنے بڑوں کی قبرو ں پر جاتے رہنا چاہیے ۔
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله لا بأس بالكتابة إلخ) لأن النهي عنها وإن صح فقد وجد الإجماع العملي بها، فقد أخرج الحاكم النهي عنها من طرق، ثم قال ( الی قولہ) فإن أئمة المسلمين من المشرق إلى المغرب مكتوب على قبورهم، وهو عمل أخذ به الخلف عن السلف اهـ (الی قولہ) فإن الكتابة طريق إلى تعرف القبر بها، نعم يظهر أن محل هذا الإجماع العملي على الرخصة فيها ما إذا كانت الحاجة داعية إليه - (2 / 237) واللہ أعلم بالصواب!