تدفین

میت کو امانتاً دفن کرنے کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
24603
| تاریخ :
2020-10-26
عبادات / جنائز / تدفین

میت کو امانتاً دفن کرنے کی شرعی حیثیت

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس شرعی مسئلہ کے بارے میں کہ عوام الناس میں یہ بحث ہوئی کہ دفن کے بعد میت کو ایک قبر سے دوسری قبر میں منتقل کیا جاسکتاہے، بعدا زاں رہنمائی کیلیے علاقہ کے نامور عالم دین کے پاس حاضر ہوئے اور مسئلہ مذکورہ کے بارے میں شرعی رہنمائی طلب کی ،جس پر مولانا صاحب نے جو کہ اہل سنت حنفی بریلوی ہیں، ارشاد فرمایا کہ اگر میت کو امانت کے طور پر دفن کیا جائے تو نکال کر دوسری جگہ دفن کرنا جائز ہے، آپ سے گزارش ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ مذکورہ کی وضاحت ارشاد فرمائیں کہ کیا دین اسلام میں امانت کے طور پر دفن کرنے کا تصور موجود ہے اور کیا میت کو اگر اس کے حقیقی ورثاء دفن کردیں تو کسی اورکے لیے میت نکال کر دوسری جگہ دفن کرنا جائز ہے؟ اگر نہیں تو جائز کہنے والے عالم دین کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اولا تو یہ جاننا چاہیے کہ دیوبندی بریلوی دونوں اہلسنت والجماعت اور حنفی المسلک ہیں اور یہ مسئلہ مسلکی بھی نہیں، بلکہ فقہی نوعیت کا ہے اور احناف رحمہم اللہ کے نزدیک تدفین کے بعد بلاضرورت میت کو نکال کر دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں اور امانتاً تدفین کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں، جہاں تک مذکورہ مولانا صاحب کا مسئلہ بتانے کا تعلق ہے، اگر ان سے لکھواکر بھیج دیا جائے تو اسپر بھی غور کیا جاسکتاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الفقه الإسلامي وٲدلته للزحیلي: نقل الميت بعد الدفن: للفقهاء رأيان: رأي المالكية والحنابلة بالجواز لمصلحة، ورأي الشافعية بعدم الجواز إلا لضرورة، وعدم الجواز مطلقًا عند الحنفية اھـ (۲/۵۳۰)۔
وفي الدرالمختار: (ولا يخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي ك (أن تكون الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة) ويخير المالك بين إخراجه ومساواته اھـ
وفي حاشية ابن عابدین: تحت قوله (كأن تكون الأرض مغصوبة) وكما إذا سقط في القبر متاع أو كفن بثوب مغصوب أو دفن معه مال اھـ (۲/۲۳۸) ـــــــــــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد الرشید محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 24603کی تصدیق کریں
2     2778
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات