کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچپن سے ہم نے دیکھا ہے کہ وہ میت دفن کرنے کے بعد سرہانے کی طرف کھڑے ہو کر سورۃ البقرۃ کی ابتدائی آیات اور قبر کے پیروں کی طرف کھڑے ہو کر سورۃ البقرۃ کی آخری آیات کی تلاوت کا اہتمام کرتے اور اس کے بعد دعا کرواتے، ایک عرصہ سے ہم بھی اسی پر عمل پیرا ہیں۔
گزشتہ دنوں میرے سسر کا انتقال ہوا، ان کی تدفین کے وقت میرے بیٹوں اور بھائی نے مذکورہ عمل کیا، جس پر مرحوم کے بیٹوں نے دلیل طلب کی جو ہمیں نہیں مل سکی، یہاں سعودی عرب کے علماء کے فتاویٰ دیکھے تو معلوم ہوا کہ ان کےخیال میں یہ عمل بدعت ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں، سوائے دعا کے اور کچھ جائز نہیں۔ براہ ِکرم راہنمائی فرمائیں۔
میت کو دفن کرنے کے بعد سرہانے کھڑے ہو کر سورۃ بقرہ کا پہلا رکوع اور پاؤں کی جانب سورۃ بقرہ کا آخری رکوع پڑھنا مستحب عمل ہے، جوکہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابی کے عمل سے ثابت اور سلف صالحین سے متوارث ہے، اس کو بدعت کہنا درست نہیں، بلاتحقیق اس قسم کی باتیں کرنے سے احتراز لازم ہے۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن عمر قال: سمعت النبي - صلى الله عليه وسلم - يقول: «إذا مات أحدكم فلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره وليقرأ عند رأسه فاتحة البقرة وعند رجليه بخاتمة البقرة». رواه البيهقي في شعب الإيمان. وقال: والصحيح أنه موقوف عليه اه (1/ 538) والله أعلم بالصواب!