السلام وعلیکم ،میرا سوال یہ ہے کہ سرکاری ملازمین جو اپنی تنخواہ میں سے جی پی/ڈی ایس پی فنڈ کٹواتے ہیں اور اس پہ سالانہ جو منافع ملتا ہے وہ جائز ہے یا نہیں۔
اگر کمپنی کی طرف سے پراویڈنٹ فنڈ یا ڈی ایس پی فنڈ کی پالیسی لازمی اور جبری ہو ، تو ایسی صورت میں تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے، اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے ، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے، شرعا ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں درحقیقت ملازم کی تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگرچہ سود یاکسی نام سے دی جائیں، لیکن سائل کے لیے اس کے لینے کی گنجائش ہے، تاہم اگر سائل کو یقین ہو کہ، کمپنی یہ رقم سودی بینک میں رکھوا کر سودی رقم سے منافع دے رہی ہے، تو اس کے لینے سے احتیاط کرنا بہر حال بہترہے۔
البتہ اگر کمپنی کی طرف سے یہ پالیسی لازمی نہ ہو ، اور ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے یہ پالیسی لیتا ہو ،تو پھر اس پر ملنے والی اضافی رقم تشبہ بالربا کی وجہ سے ملازم کا اسے لینا درست نہ ہوگا۔(از تبویب)
کما فی البحر: (والاجرۃ لا تملک بالعقد) (إلی قولہ) (بل بالتعجیل أو بشرطہ أو بالاستیفاء أو بالتمکن) یعنی لا تملک الاجرۃ الا بواحد من ھذہ الاربعۃ والمراد انہ لا یستحقہا المؤجر الا بذالک اھ ((۷/ ۳۰۰)
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0