پچھلے دنوں میں بھائی سے کسی بات پہ لڑائی ہوئی تھی تو اسی وقت میں نے قسم کھائی کے آج کے بعد میں نے تیرے ساتھ بات نہیں کرنی 2 /3 دن بعد ابو نے صلح کروائی جس کے بعد بھائی چیت کرنے پر جب میرا قسم ٹوٹ چکاہے تومجھے کفارہ ادا کرنا ہےکہ نہیں؟ اگر کرنا چاہیے؟تو اس کا کیا طریقہ ہے؟
صورت مسئولہ میں جب سائل نے والد کے صلح کرنے کے بعد اپنا قسم تھوڑ کر بھائی سے بات کرلی ہے، تو قسم ٹوٹ جانے کی وجہ سے اس کے ذمہ قسم کا کفارہ لازم ہو چکا ہے، اور قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا، یا اس کو متوسط درجہ کے کپڑے پہنانا ، اور اگر ان دونو ں کی وسعت و قدرت نہ ہو تو تین دن مسلسل روزے رکھناہے۔
کما فی الدر : (وکفارتہ)(تحریررقبۃ أو إطعام عشرۃ مساکین)(او کسوتھم بما)یصلح للاوساط وینتفع بہ فوق ثلاثۃ اشھر، و(یستر عامۃالبدن) فلم یجز السراویل الا باعتبار قیمۃ الاطعام (ولو ادی الکل) جملۃ او مرتبا ولم ینو الا بعد تما مھا للزوم النیۃ لصحۃ التکفیر (وقع عنھا واحد ھو اعلا ھا قیمۃ، ولو ترک الکل عوقب بواحد ہو ادنا ھا قیمۃ)لسقوط الفرض بالادنی (وان عجز عنھا)کلھا (وقت الاداء) عندنا(إلی قولہ) (صام ثلاثۃ ایام ولاء)ویبطل بالحیض،بخلاف کفارۃ الفطر۔ وجوز الشافعی التفریق ،واعتبر العجز عند الحنث مسکین (والشرط استمرار العجز الی الفراغ من الصوم،فلو صام المعسر یومین ثم)قبل فراغہ ولو بساعۃ (ایسر) ولو بموت مورثہ موسرا (لا یجور لہ الصوم)ویستأنف بالمال خانیۃ، ولو صا م نا سیا للمال لم یجز علی الصحیح مجتبی۔ (ج:۳/ص:۷۲۵).
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0